چھاترو کشتواڑ میں مسلح تصادم شروع، علاقے میں شدید گولیوں کا تبادلہ جاری
جموں وکشمیر کے ضلع کشتواڑ کے دور دراز چھاترو علاقے میں آج علی الصبح اس وقت کشیدگی کی فضا پیدا ہو گئی جب دہشت گرد مخالف کارروائی کے دوران فورسز اور انتہا پسندوں کے درمیان اچانک جھڑپ شروع ہوگئی۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ کارروائی ایک مصدقہ خفیہ اطلاع کے بعد شروع کی گئی تھی جس میں علاقے میں مشتبہ افراد کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی۔
دفاعی ترجمان کے مطابق فوج کی وائٹ نائٹ کور ، جموں وکشمیر پولیس اور سی آر پی ایف پرمشتمل مشترکہ ٹیم نے درمیانی شب ہی پہاڑی جنگلات کو گھیرے میں لینے کا عمل شروع کر دیا تھا۔ صبح کے وقت جب ٹیمیں مشتبہ مقام کے قریب پہنچیں، تو گھات لگائے بیٹھے دہشت گردوں نے اچانک فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں فورسز نے بھی فوری جواب دیا اور جھڑپ شدت اختیار کر گئی۔
فورسز کے ایک افسر نے بتایا کہ پہاڑی زمین، تنگ گزرگاہیں اور گھنے درخت کارروائی کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، تاہم ٹیمیں منظم انداز میں پیش قدمی کر رہی ہیں۔
علاقے میں رہائش پذیر لوگوں کو گھروں میں ہی رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جبکہ تمام داخلی اور خارجی راستوں کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ چھاترو، پاسرکوٹ اور نزدیکی بستیوں میں اضافی نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ کوئی بھی مشکوک نقل و حرکت ممکن نہ ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق وقفے وقفے سے گولیاں چلنے کی آوازیں آ رہی ہیں، اور اندازہ ہے کہ دہشت گرد اپنی جگہیں بدل کر مزاحمت جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فورسز نے ڈرون سمیت مختلف نگرانی کے ذرائع استعمال کرتے ہوئے جنگل کے اندرونی حصوں پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔
فوج کی وائٹ نائٹ کور نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ ’آپریشن تراشی – اوّل‘ کے دوران دہشت گردوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم ہو چکا ہے اور مشترکہ کارروائی پوری شدت سے جاری ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کے ایک سینیئر افسر نے بتایا کہ اس پوری بیلٹ میں گزشتہ کچھ ہفتوں سے مشکوک نقل و حرکت نوٹ کی جا رہی تھی، جس کے بعد مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ آپریشن تشکیل دیا گیا۔ ’ہمارا مقصد ہر ممکن طریقے سے جنگجوؤں کو گھیرے میں رکھنا اور کسی ممکنہ نقصان سے بچنا ہے‘۔
نیم فوجی دستے سی آر پی ایف کے اہلکار بھی بیرونی حصے میں مستعد کھڑے ہیں تاکہ دہشت گردوں کے بچ نکلنے یا کسی دوسری سمت منتقل ہونے کے امکانات مکمل طور پر ختم کیے جا سکیں۔
ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا کہ کارروائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور فورسز انتہائی احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ آنے والے چند گھنٹوں میں حالات مزید واضح ہو جائیں گے۔
Comments are closed.