کشمیر میں غیر معمولی گرمی، متعدد مقامات پر فروری کے درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے

وادی کشمیر میں غیر معمولی گرم موسم کا سلسلہ اتوار کو بھی جاری رہا اور متعدد موسمی اسٹیشنوں نے فروری ماہ کے دیرینہ ریکارڈ توڑ ڈالے۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق رواں ماہ جاری گرم لہر نے خطے میں درجہ حرارت کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے، جس کے باعث آب و ہوا میں تشویشناک تبدیلیوں کے واضح آثار نمایاں ہورہے ہیں۔

کوکرناگ میں آج درجہ حرارت 19.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو فروری کی تاریخ کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ اس سے قبل یہاں 29 فروری 2016 اور 20 فروری 2026 کو بالترتیب 18.4 ڈگری ریکارڈ ہوا تھا۔ آج کا درجہ حرارت معمول سے 10.2 ڈگری زیادہ رہا۔

پہلگام، جو وادی کے سرد ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے، میں آج درجہ حرارت 17.5 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔ یہ فروری کا اب تک کا دوسرا بلند ترین درجہ حرارت ہے، جبکہ تاریخی ریکارڈ 17.6 ڈگری 24 فروری 2016 کو قائم ہوا تھا۔

قاضی گنڈ میں درجہ حرارت نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑتے ہوئے 21.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک رسائی حاصل کی۔ اس سے پہلے کی بلند ترین حد 21.0 ڈگری 20 فروری 2026 کو ریکارڈ ہوئی تھی۔ آج کا درجہ حرارت معمول سے 11.4 ڈگری زائد رہا۔

ماہرین کے مطابق فروری میں اس قدر شدید گرم لہر موسمیاتی تبدیلیوں کی جانب ایک واضح اشارہ ہے، جس کے اثرات آئندہ ہفتوں میں وادی کے موسم، برف پگھلنے اور پانی کے ذخائر پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Comments are closed.