ڈل جھیل کا پانی سبز ہونے لگا، ماہرین نے خبردار کیا

سرینگر،22فروری

وادی کشمیر کی دلکش اور تاریخی جھیل کا پانی اچانک سبزی مائل ہو گیا ہے، جس نے نہ صرف مقامی آبادی کو حیرت میں ڈال دیا ہے بلکہ ماہرین ماحولیات اور فشریز کے محققین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

اس غیر معمولی تبدیلی نے جھیل کے قدرتی توازن اور آبی حیات کے مستقبل کے حوالے سے کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔شہر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے صبح کے وقت جھیل کے رنگ میں واضح تبدیلی دیکھی اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے متعدد ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کیں، جن میں جھیل کی سطح نمایاں طور پر سبز دکھائی دے رہی ہے۔ مقامی رہائشیوں نے اس اچانک تبدیلی کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے حکام سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ فشریز کے ایک سینئر ماہر نے یو این آئی کو بتایا کہ جھیل میں نظر آنے والی یہ تبدیلی دراصل ’الگَل فینامینا ہو سکتی ہے‘، جو پانی میں موجود خوردبینی الجی کی تیز رفتار افزائش کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھیل کے پانی کا سبزی مائل ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ماہر نے بتایا کہ درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافہ بھی اس عمل کو ہوا دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق جیسے ہی موسم گرم ہونا شروع ہوتا ہے، پانی کے اندر موجود الجی اور دوسری خوردبینی تہیں تیزی سے بڑھنے لگتی ہیں، جس کے نتیجے میں پانی کا رنگ سبز دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے کہا:’یہ الگل بلوم دراصل پولیشن لیول کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر پانی میں بائیو ماس، نامیاتی مادہ یا گندگی بڑھ جائے تو الجی کی افزائش بھی بڑھتی ہے، اور یہی صورتِ حال مچھلیوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔‘ماہر کا کہنا تھا کہ اگر یہ عمل زیادہ شدت اختیار کرے تو آبی حیات، خاص طور پر مچھلیوں کی افزائش پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت نہ صرف الجی کی پیداوار بڑھاتا ہے بلکہ پانی کے اندر گھاس پھوس اور بیکٹیریا کی گروتھ میں بھی اضافہ کرتا ہے، جس سے جھیل کا قدرتی اکولوجیکل نظام متاثر ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہر سال موسم کی تبدیلی کے ساتھ جھیل میں معمولی نوعیت کا الگل بلوم دیکھنے میں آتا ہے، لیکن اس بار کی رفتار اور شدت غیر معمولی معلوم ہو رہی ہے۔ادھر جھیل کے اطراف رہنے والے لوگوں نے جھیل کے ماحولیاتی بگاڑ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ صفائی، ویٹ لینڈز کی بحالی اور نکاسی آب کے بہتر انتظامات کو یقینی بنائے تاکہ جھیل کے قدرتی حسن اور آبی حیات کو بچایا جا سکے۔ماہرین نے زور دیا ہے کہ اگر جھیل کا درجہ حرارت اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو آئندہ ہفتوں میں الجی کی افزائش مزید تیز ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف پانی کا رنگ گہرا سبز ہو جائے گا بلکہ آکسیجن کی کمی کے باعث مچھلیوں کی بڑی مقدار ہلاک ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

Comments are closed.