گاندربل میں 209 کروڑ روپے کے بین الاقوامی جعلی آن لائن انویسٹمنٹ گھپلے کا پردہ فاش ، ہریانہ کے ڈاکٹر سمیت 9 گرفتار
جموں و کشمیر پولیس نے ایک بڑے بین الاقوامی آن لائن انویسٹمنٹ اسکیم کو بے نقاب کرتے ہوئے 209 کروڑ روپے کی جعلسازی میں ملوث ہریانہ کے ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر سمیت 9 افراد کو گرفتار کرلیا۔ یہ کارروائی اُس شکایت کے بعد عمل میں لائی گئی جو صفاپورہ گاندربل کے فردوس احمد میر نے اپنی شناخت کے غلط استعمال اور آن لائن دھوکہ دہی کے سلسلے میں درج کرائی تھی، جس پر پولیس اسٹیشن گاندربل میں ایف آئی آر نمبر 08/2026 درج کی گئی۔
ایس ایس پی گاندربل خلیل احمد پوسوال– نے معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی، جس میں سائبر فراڈ کے ماہرین کو بھی شامل کیا گیا۔ تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ سوشل میڈیا اور گوگل پر paisavault.com جیسی جعلی ٹریڈنگ ویب سائٹس کے ذریعے ملک بھر کے لوگوں کو ’کروڑوں کے منافع‘ کا جھانسہ دے کر رقم ہڑپ کی جارہی تھی۔
پولیس کے مطابق جیسے ہی لوگ ان فیک پلیٹ فارمز پر سرمایہ کاری کرتے تھے، ان کی رقم کو فوری طور پر کشمیر کے مختلف اضلاع بشمول بڈگام، سری نگر، گاندربل، بارہمولہ وغیرہ کے بینک کھاتوں میں منتقل کیا جاتا تھا۔ وہاں سے ملوث افراد اس رقم کو مزید کئی کھاتوں میں منتقل کرکے ٹریل مٹانے کی کوشش کرتے تھے، جن میں کچھ لین دین ملک سے باہر تک بھی پہنچائے جاتے تھے۔
اس پورے ریکیٹ کا مرکزی سرغنہ ایکانت یوگدت عرف ڈاکٹر مورفین کو ہریانہ کے حصار سے گرفتار کیا گیا، جو ایم بی بی ایس کی تعلیم کے دوران فلپائن میں چینی افراد کے ساتھ رابطے میں آیا تھا۔ اس کے ساتھ کشمیر کے کئی مقامی ساتھی—محمد ابراہیم شاہ عرف یاور، ناصر احمد گنائی، مقصود احمد عرف ڈاکٹر البرٹ، تنویر احمد عرف ڈاکٹر مارٹن،توسیف احمد میر (سرکاری ٹیچر)، خورشید احمد اور اسحاق احمد—بطور ریجنل ہیڈ اور اکاؤنٹ موبلائزر کام کرتے تھے۔
یہ لوگ کم آمدنی والے افراد سے ان کے بینک اکاؤنٹس اوراے ٹی ایم کارڈز ماہانہ 8 سے 10 ہزار روپے کے بدلے حاصل کرتے تھے۔ پولیس کے مطابق بینک ملازمین کی مداخلت بھی سامنے آئی ہے، جو فراڈ میں استعمال ہونے والے کیو آر کوڈ مہیا کرتے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ فراڈ کرنے والے لوگ باقاعدہ ٹیلی گرام چینلز چلاتے تھے جہاں نئے کیو آر کوڈ اپلوڈ کیے جاتے تھے تاکہ اکاؤنٹس منجمد ہونے کی صورت میں فوراً متبادل استعمال کیا جا سکے۔
پولیس نے اب تک 835 بینک اکاؤنٹس کی نشاندہی کی ہے جن میں سے 290 اکاؤنٹس میں ہونے والی ٹرانزیکشنز کا جائزہ لینے پر 209 کروڑ روپے کی رقم کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ مکمل جانچ کے بعد یہ رقم 400 کروڑ روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔
مرکزی ملزم ایکانت یوگدت کو چین سے واپسی پر دہلی ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر 8 ملزمان کو کشمیر کے مختلف اضلاع سے دھر لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ رقم کے مکمل بہاؤ کا سراغ لگایا جائے اور ملزمان کی جائیدادیں ضبط کی جائیں۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جعلی ویب سائٹس کے جھانسے میں نہ آئیں اور اپنا بینک اکاؤنٹ معمولی رقم کے بدلے کسی کو نہ دیں۔ متاثرہ افراد اپنی شکایات cybercrime.gov.in یا ہیلپ لائن 1039 پر درج کرا سکتے ہیں۔
Comments are closed.