امیت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سیکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل
سری نگر،3فروری
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ 5 سے 7 فروری تک تین روزہ دورے پر جموں و کشمیر آ رہے ہیں، جہاں وہ خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ، سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں سے ملاقات اور متعدد ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھیں گے۔ یہ دورہ حالیہ مہینوں میں بڑھتی ہوئی دہشت گردانہ سرگرمیوں اور بالائی علاقوں میں غیر ملکی دہشت گردوں کی موجودگی کے تناظر میں نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق امیت شاہ 5 فروری کی شام 5 بجے جموں پہنچیں گے اور براہ راست لوک بھون کا رخ کریں گے، جہاں اسی روز سیاسی لیڈران سے ان کی اہم ملاقات طے ہے۔ ان ملاقاتوں میں جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، عوامی مسائل اور سیکیورٹی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
مرکزی وزیر داخلہ 6 فروری کی صبح ہیرا نگر (کٹھوعہ) کے بین الاقوامی بارڈر کا دورہ کریں گے، جہاں وہ بارڈر سیکیورٹی فورس کی جانب سے سرحد پار دراندازی روکنے کے لیے نصب کی گئی جدید ٹیکنالوجی اور آلات کا معائنہ کریں گے۔ بی ایس ایف نے حالیہ ہفتوں میں ڈرونز، جدید سینیسرز اور ہائی ٹیک نگرانی نظام نصب کیے ہیں تاکہ پاکستان سے دراندازی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔اسی روز دوپہر میں امیت شاہ لوک بھون جموں میں اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، مرکزی وزارتِ داخلہ کے اعلیٰ حکام، نیم فوجی دستوں کے سربراہان، پولیس حکام اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے نمائندے شریک ہوں گے۔ اجلاس میں جموں و کشمیر کے بالائی علاقوں میں سرگرم غیر ملکی دہشت گردوں کی موجودگی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ذرائع کے مطابق وزارتِ داخلہ کو اطلاعات ملی ہیں کہ کٹھوعہ، ڈوڈہ، کشتواڑ، ادھمپور اور راجوری کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں بعض غیر ملکی دہشت گرد سرگرم ہیں۔ ان کی تلاش اور خاتمے کے لیے مشترکہ آپریشنز تیز کر دیے گئے ہیں۔
Comments are closed.