اساتذہ کل کی بنیاد ،کلاس روم صرف چار دیواریں اور بلیک بورڈ نہیں ہوتا/ لیفٹنٹ گورنر
جموں/03فروری
لیفٹنٹ گورنر منوج سِنہا نے منگل کے روز کو اِس بات پر زور دیا کہ اساتذہ کو مستقبل بین سوچ کا حامل ہونا چاہیے جو طلبا¿ کو کل کی غیر یقینی صورتحال جیسے کہ آرٹیفیشل اِنٹلی جنس( اے آئی) کے اثرات، ماحولیاتی تبدیلیوں کے لئے تیار کرسکیں، انہیں اِختراعات کی طرف راغب کریں اور ایک متحرک اور جدت پر مبنی معیشت کو فروغ دیں۔
لیفٹیننٹ گورنر پدم شری پدما سچدیو گورنمنٹ کالج فاروومن گاندھی نگر جموںمیں امر اُجالا گروپ کی طرف سے منعقد ” اِنسپریشنل ٹیچرز ایوارڈ“ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں جموں کے مختلف سکولوں سے منتخب 101 بہترین اِنسپریشنل اساتذہ کو ایوارڈ سے نوازا گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اَپنے خطاب میںکردار سازی اور صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں تدریسی کمیونٹی کی گراں قدر شراکت کی سراہنا کی جو دلیری سے مستقبل کو مکمل طور پر نئی شکل دیتے ہیں ، نوجوان طلبا¿ کو غیر متوقع دُنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے مہارت اور ہمت وحوصلے سے آراستہ کرتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا،”میں یقین رکھتا ہوں کہ اَساتذہ اور اُن کا ہنر معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی اور قوم کی روح ہے ۔“اُنہوں نے کہا کہ جیسے ایک ماہر کاریگر بھٹی میں کام کرتا ہے، اُسی طرح اُستاد بھی جانتا ہے کہ علم صرف تجسس سے حاصل ہوتی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،”اِنسپریشنل اَساتذہ محض حفظ کرنا نہیں سکھاتے بلکہ وہ سائنس کو دلچسپ کہانیوں میں بُن کر کلاس روم کو روشن کر دیتے ہیں اور ان کے لئے تاریخ صرف تاریخ کے اعداد و شمار تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اِنسانی کامیابیوں اور ناکامیوں کی روشن داستانوں میں بدل جاتی ہے۔“
اُنہوںنے اِس بات پر زور دیا کہ ہمیں مزید ایسے انسپریشنل اساتذہ کی ضرورت ہے جو طلبا¿ کو محض سننے والے سے نڈر محقق میں بدل سکیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اَساتذہ کل کی بنیاد ہیں۔ کلاس روم صرف چار دیواریں اور بلیک بورڈ نہیں ہوتا۔ کلاس روم ایک لوہار کی جھلملاتی بھٹی کی مانند ہے جہاں خام مستقبل کو شکل دی جاتی ہے۔
اُنہوں نے کہا،”میں ایسے کلاس روم کا تصور کرتا ہوں جہاں اَساتذہ محض کتابی جوابات فراہم نہ کریں بلکہ تحقیق کو متحرک کرنے والے سوالات پوچھیں۔ علم کی معیشت اور متحرک معاشرے کی تعمیر کے لئے طلبا¿ کو معلومات کے محض ناظرین سے بدل کر ایسے ہوشیار تجزیہ کار بنایا جائے جو اس کی باریکیوں کا تجزیہ کریں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اَساتذہ پر زور دیا کہ وہ اَپنے کلاس روموںمیں تعاون کی ثقافت کو فروغ دیں۔
اُنہوں نے کہا،”سچ یہ ہے کہ کل کی دُنیا ان لوگوں کی ہے جو ٹیم کی طرح کام کرتے ہیں۔اِس لئے ہمیں کلاس روم کو اِشتراکی ہبز میں بدلنا ہوگا جہاں تحقیق، تحریر اور اِختراع اِجتماعی کوششوں کے ذریعے پروان چڑھے۔“
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ اَساتذہ کو نصاب کے سخت فریم سے باہر سوچنا چاہیے۔ نصاب صرف رہنمائی فراہم کرتا ہے لیکن تخلیق اور تجسس طلبا¿کو زِندگی کی حقیقی تیاری کی طرف لے جاتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ایک اُستاد کو سیکھنے کو زندگی سے جوڑنا چاہیے تاکہ ہر دن نئی دریافتوں اور مزید تجسس کو جنم دے۔
اُنہوں نے کہا،”اس اے آئی دور میں تعلیم محض حفظ کرنے کے بارے میں نہیں بلکہ تخلیق صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے بارے میں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں اِنسانیت کا سب سے بڑا اثاثہ اختراعی اور تخلیقی سوچ ہوگی۔ میں چاہتا ہوں کہ ہمارے اساتذہ روایتی حدود کو توڑیں اور ہر طالب علم کو محض علم نہیں بلکہ لا محدود اِمکانات فراہم کریں۔“
تقریب میں وائس چانسلر جموں یونیورسٹی پروفیسر امیش رائے، وائس چانسلرکلسٹر یونیورسٹی جموںپروفیسر کے ایس چندر سیکر ، کمشنر سیکر ٹری محکمہ تعلیم رام نواس شرما،صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار، ضلع ترقیاتی کمشنر جموں ڈاکٹر راکیش منہاس، ایڈیٹر امر اُجالا مہندرا تیوری، یونٹ ہیڈ نریش شرما اور امر اُجالا گروپ کے دیگر سینئر عہدیداران،تعلیمی اِداروں کے سربراہان، اَساتذہ، ایوارڈ یافتہ اَساتذہ کے اہلِ خانہ اور طالب علموں نے شرکت کی۔
Comments are closed.