اسپیکر پر جانبداری کا الزام: جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، بی جے پی اراکین واک آؤٹ کر گئے

جموں،4 فروری

جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس بدھ کے روز اس وقت شدید ہنگامہ آرائی کا شکار ہوگیا جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے تمام اراکین نے اسپیکر عبد الرحیم راتھر پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ بی جے پی ارکان کا کہنا تھا کہ اسپیکر مبینہ طور پر حکومتی جماعت کے نمائندوں کو زیادہ وقت دے رہے ہیں اور اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب نیشنل کانفرنس (این سی) کے ایم ایل اے سجاد شاہین لیفٹیننٹ گورنر کے خطبۂ استقبالیہ پر شکریہ کی تحریک کے دوران تقریر کر رہے تھے۔ بی جے پی کے ارکان نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے نمائندوں کو بولنے کا مکمل موقع نہیں دیا جا رہا جبکہ حکومتی بنچوں کو اضافی وقت فراہم کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جیسے ہی بی جے پی ارکان نے اپنی نشستوں سے احتجاج شروع کیا، حکومتی بنچوں نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ دونوں طرف سے تکرار شدت اختیار کر گئی اور ماحول تلخ ہوگیا۔ حکومتی اراکین نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ ’تقسیمی سیاست‘ کو ہوا دے رہی ہے اور ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کے معاملے پر غیر ذمہ دارانہ بیانات دے رہی ہے، جہاں حال ہی میں داخلہ لینے والے طلبہ میں اکثریت مسلمان کمیونٹی سے تھی۔
اس دوران اسپیکر عبد الرحیم راتھرنے بی جے پی ارکان کو متعدد بار ایوان میں بیٹھنے کی تلقین کی اور واضح کیا کہ وہ کسی قسم کی جانبداری کا مظاہرہ نہیں کر رہے بلکہ کارروائی کو ایوان کے متعین قواعد و ضوابط کے مطابق چلا رہے ہیں۔ تاہم، بی جے پی ارکان اسپیکر کی وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئے اور نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے باہر نکل گئے۔
واک آؤٹ کے بعد بی جے پی اراکین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آواز دبائی جا رہی ہے اور اسپیکر کی کارروائی منصفانہ اور شفاف نہیں ہے۔ دوسری جانب حکومتی بینچوں نے ان الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ بی جے پی صرف سیاسی فائدے کے لیے انتشار پیدا کرنا چاہتی ہے۔
ایوان میں ہنگامہ آرائی کے باعث کارروائی کچھ وقت کے لیے متاثر رہی، تاہم اسپیکر نے معاملہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایوان کو قواعد کے مطابق چلا رہے ہیں اور ہر رکن کو برابر موقع ملے گا۔

Comments are closed.