سرینگرجموں شاہراہ اور دیگر اہم سڑکوں پر برفباری کے بعد ٹریفک کی بحالی کی بھرپور کوششیں جاری
سری نگر،24جنوری
وادی کشمیر اور جموں خطے میں جمعہ کی شب سے شروع ہونے والی شدید برف باری اور برفانی تودوں کے خطرات نے جہاں عام زندگی کو متاثر کیا ہے، وہیں 270 کلو میٹر طویل سری نگر–جموں قومی شاہراہ مسلسل دوسرے روز بھی بند رہی۔ حکام کے مطابق شاہراہ کے کئی مقامات پر برف جم جانے اور پھسلن پیدا ہونے کے سبب گاڑیوں کی نقل و حمل مکمل طور پر معطل ہے۔ اس دوران فوج، پولیس اور سول انتظامیہ نے شاہراہ پر درماندہ سینکڑوں مسافروں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا اور انہیں خوراک، پانی اور رہائش فراہم کی۔
برف باری کے بعد رامبن، رامسو، بانہال اور جواہر ٹنل کے اطراف شاہراہ انتہائی پھسلن کا شکار ہو گئی، جبکہ بعض مقامات پر برف کی موٹی تہہ جمع ہونے سے گاڑیاں برف میں دھنس گئیں۔ محکمہ ٹریفک کے ڈی ایس پی نیشنل ہائی وے (بانہال)، ایس پی سنگھ نے بتایا کہ برف ہٹانے کا کام آخری مراحل میں ہے اور سب سے پہلے درماندہ گاڑیوں کو کلئیر کیا جائے گا۔ ان کے مطابق رامبن سیکٹر میں 900 سے زائد گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں جبکہ 2000 سے زیادہ دیگر گاڑیاں— جن میں ضروری اشیاء سے لدی ٹرکیں بھی شامل ہیں۔
شدید برف باری اور منفی درجہ حرارت کے دوران ناچلانہ فوجی کیمپ اور سنگلدان فوجی یونٹ نے ایک بار پھر انسانی ہمدردی کی مثال پیش کرتے ہوئے درجنوں مسافروں، بشمول خواتین، بچوں اور بزرگ افراد کی مدد کی۔ فوجی ذرائع کے مطابق برفانی تودوں کے خدشے، گاڑیوں کے پھسلنے اور شدید سردی کے باعث کئی ٹورسٹ گاڑیاں، مقامی مسافر اور ٹرک ڈرائیور شاہراہ پر پھنس گئے تھے، جنہیں فوج نے نہ صرف محفوظ مقامات تک منتقل کیا بلکہ گرم کھانا، پانی، چائے، کمبل اور ابتدائی طبی مداد بھی فراہم کی۔
ایک فوجی افسر نے بتایا کہ درجنوں سیاح، مرد و خواتین، بچے اور بزرگ انتہائی سخت سردی میں پھنسی ہوئی گاڑیوں میں تھے۔ ہماری ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور سب کو محفوظ مقامات تک پہنچایا۔
سنگلدان ریلوے اسٹیشن پر بھی 65 مسافروں کے پھنس جانے کی اطلاع پر فوجی اہلکاروں نے خراب موسم کے باوجود وہاں پہنچ کر ضروری اشیاء فراہم کیں اور انہیں محفوظ مقام تک منتقل کیا۔
دوسری جانب ٹریفک پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ نہ صرف سری نگر—جموں شاہراہ بلکہ مغل روڈ، سنتھن ٹاپ روڈ، سری نگر–لیہہ شاہراہ سمیت کئی اضلاع کی درجنوں اندرونی سڑکیں بھی جمعہ سے بند ہیں۔ عوام کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ ان راستوں پر سفر سے گریز کریں جب تک ان سڑکوں کو مکمل طور بحال اور محفوظ قرار نہیں دیا جاتا۔
بارڈر روڈز آرگنائزیشن بھی جموں–راجوری–پونچھ نیشنل ہائی وے پر بڑے پیمانے پر برف ہٹانے کے کام میں مصروف ہے۔ حکام نے تصدیق کی کہ بی جی (راجوری) تا جرّان والی گلی پونچھ سیکٹر میں بھاری برف باری کے باعث ٹریفک مکمل طور بند رہا۔ بی آر او کے مطابق مرد و مشینری مکمل رفتار سے کام کر رہے ہیں تاکہ جلد از جلد سڑک بحال ہو سکے۔
جموں خطے کے بالائی علاقوں بشمول پتنی ٹاپ، نتھا ٹاپ اور بھدرواہ میں بھی درمیانی سے بھاری برف باری ہوئی، جبکہ جموں شہر اور میدانی علاقوں میں بارشوں نے دو ماہ سے زائد طویل خشک سالی کا اختتام کیا۔ حیران کن طور پر راجوری شہر، ڈوڈہ اور ادھم پور کے کچھ حصوں میں بھی کئی برسوں بعد برف باری ریکارڈ کی گئی۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ موسم بہتر ہوتے ہی شاہراہیں مرحلہ وار کھولی جائیں گی، مگر جب تک ہنگامی بحالی کا کام مکمل نہیں ہوتا، مسافروں کو سختی سے مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ سفر نہ کریں اور انتظامیہ کی ایڈوائزری پر سختی سے عمل کریں۔
Comments are closed.