لال قلعہ کے پاس کار میں دھماکے کا واقعہ، صورتِ حال پرامیت شاہ کی نظر

نئی دہلی، 10 نومبر

دارالحکومت میں لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے باہر پیر کی شام ایک سست رفتار سے چلتی کار میں ہوئے دھماکے کے بعد مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ مسلسل صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اس دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد کی موت ہوگئی ہے اور 24 لوگ زخمی ہوگئے ہیں۔دھماکے کے فوراً بعد موقع پر پہنچی پولیس نے پورے علاقے کو سیل کر دیا اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے)، فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) اور دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کی ٹیمیں بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
دہلی پولیس کمشنر ستیش گولچا نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’’آج شام 6:52 بجے ایک سست رفتار سے چلتی گاڑی لال بتی پر رکی۔ اسی گاڑی میں دھماکہ ہوا اور اس کی وجہ سے آس پاس کے گاڑیاں بھی متاثر ہوئیں۔‘‘مسٹر گولچا نے تصدیق کی کہ تمام متعلقہ ایجنسیاں موقع پر موجود ہیں اور وزیر داخلہ امت شاہ کو پوری معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر شاہ صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔پولیس کمشنر نے کہا کہ ’’وزیر داخلہ نے بھی ہمیں فون کیا ہے اور وقتاً فوقتاً ان کے ساتھ معلومات شیئر کی جا رہی ہیں۔‘‘لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر ایک کے قریب ہوئے اس دھماکے کی زد میں کئی گاڑیاں آئیں اور آس پاس کے مکانات کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

لوک نایک جے پرکاش اسپتال (ایل این جے پی) کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بی ایل چودھری کے مطابق ’’آٹھ افراد اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ ہو چکے تھے۔‘‘واقعے کے بعد پولیس نے قومی دارالحکومت میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ تفتیش میں دہشت گردی کے پہلو کی بھی سنجیدگی سے جانچ کی جا رہی ہے۔جائے وقوعہ کی تصاویر میں جلتی ہوئی گاڑیوں سے اٹھتا ہوا شعلہ اور گھنا دھواں دکھائی دیا۔

طاقتور دھماکے سے کئی گاڑیاں بری طرح متاثر ہو ئی ہیں۔دھماکے کے بعد پورے اتر پردیش میں بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ریاست کے اے ڈی جی لا اینڈ آرڈر، امیتابھ یش نے تصدیق کی کہ ڈی جی پی نے تمام سینئر افسروں کو ہدایت دی ہے کہ حساس مذہبی مقامات، حساس اضلاع اور سرحدی علاقوں میں سکیورٹی بڑھائی جائے۔ اتر پردیش کی تمام سکیورٹی ایجنسیاں اور ضلع پولیس یونٹس الرٹ پر ہیں۔ لکھنؤ سے حساس علاقوں میں گشت اور چیکنگ بڑھانے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

Comments are closed.