لہیہ میں پر تشدد جھڑپوں کے بعد سخت ترین کرفیو کا نفاذ، اضافی کمپنیاں تعینات

لہیہ،25ستمبر

لداخ کے لہیہ میں بدھ کو ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کے بعد جمعرات کو غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ جھڑپوں میں چار افراد ہلاک جبکہ 90 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

ذرائع کے مطابق لہیہ اپیکس باڈی کی کال پر بدھ کو ریاستی درجہ اور لداخ کو چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کے مطالبے کی حمایت میں بند منایا گیا تھا، جو بعد میں پرتشدد مظاہروں میں بدل گیا۔ مظاہرین نے بی جے پی دفتر اور کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی، جبکہ ہل کونسل کے ہیڈکوارٹر کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا۔ اس صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے شہر میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ’کرفیو زدہ علاقوں میں حالات قابو میں ہیں اور کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔‘ذرائع کے مطابق تشدد میں ملوث ہونے کے الزام میں کئی افراد کو چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا۔
اسی دوران کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے بھی بند کی کال دی ہے جس کے پیش نظرکارگل میں بھی امتناعی احکامات نافذ کئے گئے ہیں۔ کارگل ضلع مجسٹریٹ راکیش کمار نے پورے ضلع میں سخت پابندیاں عائد کر دیں اور بھارتیہ ناگرک سورکشا سنہیتا کی دفعہ 163 کے تحت پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے، جلوس نکالنے یا مظاہرے کرنے پر مکمل پابندی عائد کی
احکامات میں بغیر اجازت لاوڈ اسپیکر یا پبلک ایڈریس سسٹم کے استعمال پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔ کسی بھی شخص کو عوامی سطح پر ایسے بیانات یا تقاریر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جو امن عامہ کو متاثر کریں یا اشتعال پھیلائیں۔
پرتشدد جھڑپوں کی شروعات اس وقت ہوئی جب بھوک ہڑتال پر بیٹھے 15 افراد میں سے دو کی حالت بگڑنے پر انہیں منگل کی شام اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد ’ایل اے بی‘ کی یوتھ ونگ نے احتجاج کی کال دی۔ وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں الزام لگایا کہ یہ پرتشدد مظاہرے ’سونم وانگچک کے اشتعال انگیز بیانات‘ کے نتیجے میں ہوئے اور اس میں سیاسی طور پر محرک افراد شامل تھے جو حکومت اور لداخی نمائندوں کے درمیان جاری بات چیت سے ناخوش ہیں۔
مرکزی وزارت داخلہ کے مطابق حکومت لداخ کے عوام کی خواہشات کو پورا کرنے اور انہیں مناسب آئینی تحفظ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر کویندر گپتا نے لہیہ میں ہونے والے واقعات کو ’دل دہلا دینے والا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر کسی کو جمہوری انداز میں آواز بلند کرنے کا حق ہے لیکن جو کچھ ہوا وہ منصوبہ بندی کے تحت ایک سازش کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق کرفیو مزید جانی نقصان روکنے کے لیے احتیاطی قدم کے طور پر نافذ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، سونم وانگچک نے آن لائن پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بزرگ بھوک ہڑتالی کارکن تسیرنگ انگچک اور تاشی ڈولما کی حالت بگڑنے سے ہی احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اپنی طویل بھوک ہڑتال ختم کر رہے ہیں۔
وانگچک نے نوجوانوں سے اپیل کی: ’میں لداخ کے نوجوانوں سے گزارش کرتا ہوں کہ فوری طور پر تشدد روکیں، کیونکہ یہ ہمارے مقصد کو نقصان پہنچا رہا ہے اور حالات کو مزید بگاڑ رہا ہے۔ ہمیں لداخ یا ملک میں عدم استحکام نہیں چاہیے۔‘
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ان کا احتجاج ہمیشہ پُرامن رہا ہے، لیکن بدھ کے پرتشدد واقعات نے اس پرامن پیغام کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
دریں اثنا ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ لداخ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی امن و قانون کی صورتحال پر قابو پانے کے لئے انتظامیہ نے وادی کشمیر سے نیم فوجی دستوں کی اضافی کمپنیاں فوری طور پر لہیہ اور کرگل روانہ کر دی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ دستے حساس مقامات پر تعینات کئے جائیں گے تاکہ مزید پرتشدد واقعات کو روکا جا سکے اور عوام میں اعتماد بحال ہو.

Comments are closed.