وزیراعلیٰ کے ٹویٹس کامرکزی وزارت داخلہ نے سخت نوٹس
سری نگر: ایک انتہائی غیرمعمولی اقدام کے تحت مرکزی وزارت داخلہ نے ”خاتون وزیراعلیٰ کے ٹویٹس کاسخت نوٹس“لیتے ہوئے اسبات کی تحقیقات شروع کردی ہے کہ محبوبہ مفتی کی جانب سے کون سماجی رابطے کی ویب سائٹ پرٹویٹ لکھتاہے۔بتایاجاتاہے کہ مرکزی وزارت داخلہ نے وزیراعلیٰ کو حساس معاملات پرٹویٹ لکھنے میں حددرجہ احتیاط برتنے کامشورہ دیتے ہوئے خبردارکیاہے کہ موصوفہ کاایک ٹویٹ جموں وکشمیرمیں سیاسی محاذآرائی کی صورتحال کوجنم دے سکتاہے۔کشمیرنیوزسروس کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ نے ریاست کی خاتون وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی جانب سے شہری اموات جیسے حساس واقعات پرسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراظہارخیال کئے جانے پرسخت تشویش اورناپسندیدگی ظاہرکی ہے ،اوروزیراعلیٰ کویہ مشورہ دیاگیاہے کہ وہ کسی بھی معاملے یاواقعے کے بارے میں جلدکسی نتیجے پرپہنچ کرٹویٹ کرنے سے احتراض کیاکریں ۔جموں سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامہ ’ارلی ٹائمز‘میں شائع ایک رپورٹ میں ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے بتایاگیاہے کہ مرکزی وزارت داخلہ نے مختلف واقعات کے بارے میں خاتون وزیراعلیٰ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پرآکراظہارخیال کرنے کاسنجیدہ نوٹس لیاہے ۔رپورٹ کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ نے محبوبہ مفتی کوٹویٹ کرنے کے معاملے میں احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے ۔بتایاجاتاہے کہ وزارت داخلہ نے وزیراعلیٰ کے اُس تازہ ٹویٹ کانوٹس لیاہے جس میں موصوفہ نے شوپیان کے پہنوگاﺅںمیں کچھ روزقبل شام کے وقت ایک فائرنگ واقعہ کے بارے میں ٹویٹ کیاکہ مارے گئے4نوجوان عم شہری تھے۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے یہ بھی بتایاگیاہے کہ اس سے پہلے وزیراعلیٰ کی جانب سے کٹھوعہ میں کمسن بچی آصفہ کی آبروریزی اورقتل کے بارے میں کئے گئے ٹویٹ کابھی وزارت داخلہ نے نوٹس لیتے ہوئے محبوبہ مفتی کویاددہانی کرائی تھی۔ذرائع کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ نے محبوبہ مفتی کوسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپرٹویٹ لکھتے وقت حددرجہ احتیاط برتنے کی تلقین کرتے ہوئے اُنھیں یاددہانی کرائی ہے کہ وہ ریاست کی وزیراعلیٰ ہیں ،اورحساس واقعات پرٹویٹ کے ذریعے اپنے خیالات وموقف کااظہارکرکے موصوفہ خوداپنی سربراہی والی سرکارکیخلاف اپوزیشن جیسارول اداکرتی ہیں ۔رپورٹ کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے انتباہ کئے جانے کے باوجودجب وزیراعلیٰ نے شوپیان میں حالیہ شہری ہلاکتوں کے بارے میں ٹویٹ کیاتواس کاسنجیدہ نوٹس لیاگیا۔بتایاجاتاہے کہ اب مرکزی وزارت داخلہ اسبات کی تحقیقات کررہاہے کہ حساس معاملات اورواقعات کے بارے میں کئے جانے والے ٹویٹ خودمحبوبہ مفتی کی جانب سے لکھے جاتے ہیں یاکہ اُنکی ٹیم کاکوئی فردیہ ٹویٹس لکھتاہے۔رپورٹ میں مزیدبتایاگیاہے کہ مرکزی وزارت داخلہ کے حکام اسبات کولیکرنالاں ہیں کہ خاتون وزیراعلیٰ یااُنکی ٹیم اسبات کوسنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے کہ اُن کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپرکسی معاملے پرقبل ازمکمل تحقیق کئے جانے والے ٹویٹ سے ریاست جموں وکشمیرمیں سیاسی تضادپیداہوسکتاہے ۔رپورٹ کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ نے محبوبہ مفتی کویہ باﺅرکرایاہے کہ موصوفہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ریاست میں ایک ااہم آئینی پوزیشن پرفایض ہیں ،اوروہ اس عہدے پررہ کراپنی ہی سربراہی والی سرکارکیخلاف اپوزیشن جیسارول ادانہیں کرسکتی ہیں ۔شائع رپورٹ میں ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے مزیدلکھاگیاہے کہ اب مرکزی وزارت داخلہ نے اسبات کی باریک بینی کیساتھ تحقیقات شروع کردی ہے کہ وزیراعلیٰ کے ٹویٹرپرکون ٹویٹ تحریرکرتاہے۔بتایاجاتاہے کہ اسبات کی تحقیقات کی جارہی ہے کہ کیاخودمحبوبہ مفتی مختلف معاملات اورواقعات کے بارے میں ارادے یارائے ظاہرکرتی ہیں اورپھران ہی ارادوں یارائے کوٹویٹ کی شکل میں سامنے لایاجاتاہے۔رپورٹ کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ نے کہاہے کہ ایک وزیراعلیٰ کی حیثیت میں اورسیاسی طورپرمحبوبہ مفتی باشعوراورہوش مندہیں ،اسلئے اسبات کی تحقیقات کی جارہی ہے کہ ایسے معاملات پر محبوبہ مفتی کی ٹیم میں کون شامل ہیں اورکون موصوفہ کی جانب سے سماجی ویب سائٹ پرٹویٹ لکھتاہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایاگیاہے کہ مکلوط سرکارمیں شامل جماعت بی جے پی بھی اسبات پرناراض ہے کہ آخرکیوں وزیراعلیٰ کی جانب سے حساس نوعیت کے معاملات پرٹویٹ کئے جاتے ہیں ۔بھاجپاکے حوالے سے بتایاگیاہے کہ اس طرزعمل کے ذریعے محبوبہ مفتی کشمیرمیں اپنے ووٹ بینک کوبچاناچاہتی ہیں لیکن اس طرح سے جموں صوبہ میں بی جے پی کیلئے مشکلات پیداہوتی ہیں ۔
Comments are closed.