شہری ہلاکتوں کے واقعات باعث تشویش:میر واعظ

سری نگر: میرواعظ عمرفاروق نے ”شہری ہلاکتوں کے واقعات کوباعث تشویش “قراردیتے ہوئے انکشاف کیاہے کہ 6 ہفتوں میں13 سے زائدنہتے شہریوںکوموت کی نیندسلادیاگیا۔میرواعظ نے خبردارکاکیاکہ جب تک افسپا کو ہٹایا نہیں جاتا،ہمارے نوجوان وبزرگ کیا،ہم خواتین کو کھوتے رہےں گے۔کے این ایس کوموصولہ بیان کے مطابق حریت کانفرنس(ع) کے چیئرمین میرواعظ محمد عمر فاروق جو گذشتہ دو دنوں سے شوپیاں میں ہوئی ہلاکتوںکے پیش نظرایک بار پھر اپنی رہائش گاہ پر نظر بند کئے گئے ہیں ،نے کشمیر کی موجودہ صورتحال کو انتہائی کشیدہ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ سرکاری فورسز کے ہاتھوں صرف پچھلے6 ہفتوں کے دوران 13 سے زائدنہتے شہریوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کئے جانے کے نتیجے میںدن بہ دن حالات مزید ابتر ہوتے جارہے ہےںاور عوامی غم و غصہ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ میرواعظ نے شوپیاں میںہوئی ہلاکتوں اور دیگر تمام ہلاکتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں انسانیت کش اور ظالمانہ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے مہلوکین کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا ہے کہ دکھ اور تکلیف کی اس گھڑی میں پوری کشمیری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہاکہ کالے قانون افسپا کی آڑ میںیہاںفوج اور فورسز کو حاصل بے لگام اختیارات کی بناءپرکسی بھی قانونی احتساب سے مبرا فورسزاہلکارمن مرضی کے مطابق جب چاہے کسی کو بھی قتل کردیتے ہیں۔ جناب میرواعظ نے کہا کہ شہید کئے گئے افراد میں اکثریت ضلع شوپیاں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سائمہ وانی نامی ایک 17 سالہ بچی سمیت 8 نوجوان شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ دودھ پلاتی دو مائیں بھی فوجیوں کے عتاب کا شکار بن کر ان کی گولیوں کا نشانہ بنی ہیں۔میرواعظ نے کہا کشمیر میں نہتے لوگوں کوگولیوںکا بے تحاشہ قتل ہندوستانی حکومت کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے طریقے کا حصہ بنا ہوا ہے ۔ حریت چیئرمین نے کہا چناںچہ ایسے واقعات کےلئے فوج کی کوئی جوابدہی یا کوئی احتساب نہیں ہے اسلئے ہمارے سامنے ایک ایسی فکر وتشویش والی حقیقت سامنے آئی ہے جس کے مطابق کشمیر کے باشندوں کی زندگی مسلسل خطرے سے دوچار ہوگئی ہے کیونکہ ان کی زندگیاں مکمل طور فوج کے رحم و کرم پر نظر آتی ہے۔ میرواعظ نے کہا جب تک افسپا کو ہٹایا نہیں جاتا،نہتے کشمیریوں کی بغیر کسی جوابدہی کے ہلاکت جاری رہے گی اور ہمارے نوجوان کیا بزرگ کیا،ہم خواتین کو کھوتے رہےں گے۔میرواعظ نے ایک بار پھر بین الاقوامی حقوق انسانی کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیر میں ہوری اس ظلم و زیادتی کا سنجیدہ نوٹس لےں اور عالمی سطح پر اس کے بارے میں بیداری پیدا کرے ۔ انہوں نے کہا بھارت کے حقوق انسانی کی تنظیموں ، کارکنوں، انسانیت نوازوں، پرنٹ میڈیا، کالم نویسوں کی جانب سے کشمیر میں فورسز کے ہاتھوںہورہے بے دردانہ قتل کے واقعات پر مکمل خاموشی انتہائی تکلیف دہ اور حیران کن ہے۔میرواعظ نے کہا کہ جموں کشمیر میں سرحدوں پر صوتحال بھی انتہائی کشیدہ اور پُر تناو ہے ۔ آئے روز دونوں طرف نہتے شہریوں اور فوجیوں کی قیمتی جانوں کا زیاں ہورہا ہے اور یہ کشیدگی کسی بھی وقت ایک تباہ کن جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔میرواعظ نے کہا کہ کشمیر میں اور کشمیر پر ہورہی خونریز صورتحال کاآسانی سے خاتمہ ہو سکتا ہے اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اصل تنازعہ یعنی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے اقدامات اٹھائے جاتے ہےں لیکن یہ انتہائی تکلیف دہ ہے کہ ایسا نہیں کیا جارہا ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ ہندوستان و پاکستان دونوں کو اپنی بقا کے پیش نظر یہ مسئلہ کسی نہ کسی دن حل کرنا پڑے گا لیکن الیہ یہ ہے کہ تب تک کشمیری عوام موت و تباہی کی اس چکی میں پستے رہیں گے۔

Comments are closed.