شہری ہلاکتوں کیخلاف حیدرپورہ میں احتجاج
سری نگر:شہری ہلاکتوں کیخلاف حیدرپورہ میں احتجاج کے دوران حریت(گ)لیڈروںاورکارکنوں نے ’کشمیریوں کی نسل کشی اور شہری ہلاکتوں پر روک لگاﺅ‘ جیسے نعرے بلندکئے ۔اس دوران احتجاج کے اختتام پرپولیس نے سیدامتیازحیدرکوگرفتارکرلیا۔کے این ایس کوموصولہ بیان کے مطابقچیرمین حریت(گ)سید علی گیلانی کی ہدایت پر حیدر پورہ سرینگر میں شوپیان میں عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف ایک مظاہرہ ہوا جس میں حریت کانفرنس کے رہنماو ¿ں اور کارکنوں نے شرکت کی جن میں محمد رفیق اویسی ،محمد یوسف نقاش، دیوندر سنگھ بہل ،سید محمد شفیع،محمد شفیع لون ،خواجہ فردوس احمد ، یاسمین راجہ،محمد یٰسین عطائی، معراج الدین ربانی، سید امتیاز حیدر، رمیز راجہ، عاشق حسین، عمران بٹ، ظہور احمد بیگ اور نثار احمد قابل ذاکر ہیں۔ حریت لیڈروں نے سنیچر کو شوپیان میں شہری ہلاکتوں کے لئے بھارتی فورسز کو ذمہ دار ٹھراتے ہوئے کہا کہ کالے قوانین کی آڑ میں ہلاکتوں کو ریاستی عوام برداشت نہیں کریں گے اور اس طرح کی بربریت کے خلاف اپنی آواز بلند کریں گے۔انہوں نے ریاستی حکومت اور انتظامیہ کے رول کی شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف یہ لوگ اس قتل عامِ کے خلاف خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں اور دوسری طرف کشمیری عوام کو اس ظلم وبربیت کے خلاف آنسو بہانے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی ہے۔ حریت لیڈروں نے کہاکہ یہ لوگ ہمارے مظلوم عوام کی لاشوں پر اپنے سنگھاسن سجائے بیٹھے ہیں اور ان کو کشمیری عوام کے جینے یا مرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ان غداروں کو معلوم ہے کہ اگر انہوں نے اس قتل عام کے خلاف کوئی ایک لفظ بھی اپنی زبان سے کہا تو ان کی نوکریاں چلی جائیں گی، ان کے دہلی کے آقاو ¿ں کے ماتھوں پر اگر بل آگیا تو یہ لوگ ہمیشہ کے لیے اپنے اقتدار سے محروم ہوجائیں گے۔ حریت لیڈروں نے کہاکہ اقتدار کے ہوس نے ان لوگوں کے ضمیر کو پژمردہ بنادیا ہے اور یہ لوگ اس قدر لالچی اور وحشی بن گئے ہیں کہ ان کو معصوم نوجوانوں کے یہ چھلنی بدن ملامت بھی نہیں کرپاتے ہیں۔ انہوں نے فورسز اور پولیس کے دعوے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری سرپرستی میں ہتھیار بند اہلکاروں نے عام شہریوں کے خلاف بغیر اعلان کے جنگ چھیڑ رکھی ہے اور وہ جسے چاہتے ہیں قتل کردیتے ہیں، کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ یہاں کے مقامی غدار ان کی حفاظت اور پردہ داری کے لیے سامنے آئیں گے۔ مظاہرین نے اقوام عالم اور اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کے متنازعہ خطے میں جاری کشت و خون سے ان دیکھی کرکے اس قتل عام کو سند جواز بخشا جارہا ہے ،جوکسی بھی مہذب سماج کے لئے قطعاََ قابل قبول نہیں ہوسکتاہے۔قائدین نے اپنے ہاتھوں میں بینر اور پلے کاڑ اٹھائے رکھے تھے ،جن پر ’قتل عام بند کرو‘، ’کشمیریوں کی نسل کشی اور شہری ہلاکتوں پر روک لگاﺅ‘ جیسے نعرے لکھے گئے تھے ۔ اُنہوں نے معصوم شہریوں جن میںشاہد احمد وگے ،زاہد احمد چوپان ، سہیل احمد وگے، شاہداحمد خان،شہنواز وگے اور منظور احمد لون کی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کو افسوسناک قرادیا اور کسی بین الاقوامی ایجنسی کے ذریعے اس کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ دہرایا۔ رہنماو ¿ں نے پولیس چھاپوں اور گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شبانہ چھاپوں میں جے کے ایل ایف کے چیرمین محمد یٰسین ملک، حریت جنرل سیکریٹری حاجی غلام نبی سمجھی، حریت ترجمان غلام احمد گلزار، بلال صدیقی،محمد یوسف مکرو،محمد اشرف لایا، عمر عادل ڈاراور خواجہ نزیر احمد کو گرفتار کرکے مختلف پولیس تھانوں میں مقید رکھا ۔ قائدین نے کہاکہ ایک جانب معصوم شہریوں کو بغیر کسی جواز کے ہلاک کیا جارہا ہے اور دوسری طرف بین الاقوامی برادری کی چُپ کی وجہ سے بھارتی فوج خود کو کسی محاسبے اور پوچھ تاچھ کے عمل سے بری سمجھ رہی ہے۔ انہوں نے اپنے اس عزم کو دہرایا کہ جموں کشمیر کے عوام کے جذبہ ± آزادی کو بربریت کے اس فوجی مظاہرے سے ختم کیاجانا ممکن نہیں۔ اس دوران احتجاج کے اختتام پر پولیس نے حریت کارکن سید امتیاز حیدر کو ایک پرائیویٹ گاڑی سے نیچے اُتار کر گرفتار کرنے کے بعد کسی نامعلوم جگہ منتقل کردیا ہے۔ حریت کانفرنس (گ)نے پولیس کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے غنڈہ گردی سے تعبیر کیا ہے۔
Comments are closed.