عدلیہ کو آخری شہری تک انصاف پہنچانا ہوگا: بی آر گوائی

سری نگر،27جولائی

چیف جسٹس آف انڈیا، جسٹس بی آر گوائی نے اتوار کے روز کہا کہ حقوق اگر عوام کو معلوم ہی نہ ہوں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر شہری کو اس کے آئینی حقوق سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ان باتوں کا اظہار موصوف نے سری نگر میں نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی(نالسا) کے شمالی زونل ریجنل کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔
چیف جسٹس گوائی نے کہا کہ ججز اور وکلا کا فرض ہے کہ وہ ملک کے آخری شہری تک انصاف کی رسائی کو ممکن بنائیں، نالسا کا کردار اسی سمت میں ہے، اور ہم اس کے کام کو لداخ، شمال مشرق اور راجستھان جیسے دور دراز علاقوں تک لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے گزشتہ 35 برسوں کے دوران کشمیر میں پیش آئے حالات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا،’کشمیر نے کئی غیر معمولی دور دیکھے ہیں، مگر اب وقت ہے کہ ہم ان خرابیوں کو دور کریں اور اس پرامن کشمیر کو دوبارہ بحال کریں جہاں ہندو، مسلم، سکھ تمام مذاہب کے لوگ بھائی چارے کے ساتھ رہتے تھے۔ ‘
چیف جسٹس نے اس موقع پر آئین میں درج سیاسی، سماجی اور معاشی انصاف کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے خود سے وعدہ کیا ہے کہ ملک کے ہر شہری کو انصاف ملے گا، اب عدلیہ اور وکلا پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان آئینی قدروں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔‘
انہوں نے کہا کہ بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر نے ‘ایک شخص، ایک ووٹ’ کے اصول کے ذریعے سیاسی انصاف کو یقینی بنایا، لیکن سماجی تقسیم کے مسائل آج بھی موجود ہیں، جنہیں سمجھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے۔
جسٹس گوائی نے جموں، کشمیر اور لداخ کے وکلا کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کے پاس براہ راست اختیارات نہیں، تاہم وہ ان معاملات کو متعلقہ اتھارٹیز اور کولیجیم تک ضرور پہنچائیں گے۔انہوں نے جموں و کشمیر اور لداخ کے اپنے دوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا،’مجھے یہاں سے بے پناہ محبت ملی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں اپنے آبائی وطن لوٹ آیا ہوں۔ یہاں کی صوفی روایت ہندوستانی آئین کی روحانی اقدار، سیکولرازم اور بھائی چارے کو فروغ دیتی ہے۔ ‘

Comments are closed.