ناظم نذیر
حزب کمانڈر سبزار بٹ اور ان کے ساتھی کے فورسز کے ہاتھوں ترال معرکہ آرائی میں جاں بحق ہونے کے بعد وادی میں حالات نے سنگین رخ اختیارکیااور ہرسو احتجاج کی لہر دوڑ گئی شمال وجنوب میں لوگوں نے گھر وں سے باہر آکر اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے ۔اس دوران پولیس و فورسز نے مظاہریں کو منتشر کرنے کیلئے حسب روایت ٹیرگیس شلنگ اور پیلٹ وبلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ۔ ان حالات کے بیچ ایک نوجوان گولی لگنے سے زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔احتجاجی لہر کے بیچ سرکار نے انٹر نیٹ پر پابندی عائد کی اور پری پیڈ سروس کو بھی معطل کیا اورتمام امتحانات ملتوی کئے گئے ۔ادھر مزاحمتی قیادت نے 28،29مئی کو مکمل ہڑتال اور 30مئی کو ترال چلو کا پروگرام جاری کیا ۔سرکاری طور سرینگر کے آٹھ پولیس اسٹیشنوں اور دیگر اضلاع کے حساس مقامات پرکرفیو کا نفاذ عمل میںلایا گیا اور آج یعنی 28مئی اتوار کورٹھسونہ ترال میں کمانڈر سبزار بٹ کا نمازجنازہ انجام دیا گیا جس میں بندشوں اور قدغنوں کے باوجود بھی ہزاروںکی تعداد میںلوگوں نے شرکت کی ۔اس دوران عسکریت پسندوں نے سبزار بٹ کے جنازے میں شرکت کرکے گولیوں راونڈ چلاکرسلامی دی۔اس کے بعد جان بحق ہوئے کمانڈر کو جلوس کی صورت میں مقامی مزار شہداء میں پہنچا کرپُر نم اور اشکبا ر آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا ۔ادھر وادی کے طول وارض میں مزاحمتی کال کے پیش نظر مکمل ہڑتال رہا اور چارسو ہُو کا عالم دیکھنے کو ملا ۔ ادھر موصولہ اطلاعات کے مطابق متعدد علاقوں اور قصبوں میں سبزار بٹ اور ان کے ساتھی کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کیا گیا اور احتجاجی مظاہرے کئے گئے جس میں مظاہرین اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بلنداور بھارت مخالف نعرہ بازی کررہے تھے ۔آخر ی خبرملنے تک وادی میں مجموعی طور حالات پُر تنائو اور کشیدہ بنے ہوئے ہیں
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Next Post
Comments are closed.