وادی کے حالات پُر تنائو
حزب کمانڈر برہان وانی جاں بحق ہونے کے بعد وادی میں حالات نے سنگین رخ اختیار کیا اور تقریباً پانچ ماہ تک وادی میں معمولات زندگی درہم برہم رہی اور ان حالات کے بیچ ایک سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ہزاروں افراد ٹیرگیس شلنگ ،بلٹ اور پیلٹ فائرنگ سے زخمی ہوئے جن میں میں سینکڑوں افراد آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوئے اور جسمانی طور معذور ہوئے جن کا آج بھی کوئی پُرسان حال نہیں ہے اور اپنی بے بسی کا رونا روتے ہیں اورہزاروں مزاحمتی کاکناں و قائدین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جن میں سے ایک خاصی تعداد پی ایس اے کے قیدو بند کی صوبتیں جھیل رہے ہیں ۔بہرحال سرکاری سطح پر مختلف حربے آمانے سے پانچ ماہ ہڑتال کے بعد حالات میں قدرے بہتری آئی تاہم مجموعی طور تب سے اب تک حالات سدھرے کا نام نہیں لیتے ہیں ۔کیونکہ ضمنی انتخابات میں لوگوں کے منفی اپروچ سے سرکار کو ایک دھچکہ لگا اور سیاسی گلیاروں و صحافتی حلقوں میں کافی دیر تک صرف سات فیصدی وٹ موضوع بحث بنے ۔ اس کے بعد طلبہ کی گرفتاری اور فورسز کی جانب سے اسکولی طلبہ پر ظلم و رتشدد اور پلوامہ میں طلبہ کے ساتھی زیادتی کے بعد پورے وادی میں کندھوں پر بستہ لئے ہوئے طلبہ نے احتجاجی راہ اختیار کی اور پولیس و فورسز ان کو دبانے کیلئے طاقت کا بے تحاشہ استعمال کررہے ہیں لیکن طلبہ کا غصہ تھم نہیں پاتا ہے بلکہ سرکاری طورہفتوں ہا اسکولوں کو بند رکھنے کے اعلانات بھی جاری ہوئے اس طرح سے طلبہ کا مستقبل بھی دائو پر لگ چکا ہے ۔یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ ابھی تک وادی میں طلبہ احتجاج جاری تھا لیکن سنیچر کو ترال انکاونٹر میں برہان وانی کے قریبی ساتھی اور جان نشین سبزار بٹ کئی ساتھیوں سمیت پھنس گئے اور تصادم آرائی کے دوران ایک جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوا جبکہ سبزار بٹ اور اس کا ایک ساتھی فورسز کے ہاتھوں جاں بحق ہوئے اور یہ خبر انٹر نیٹ کی مختلف سماجی ویب سائسٹس پر وائرل ہوئی تو پوری وادی مین احتجاجی لہر ایک بار پھر شروع ہوئے احتجاجیوں پر قابو پانے کیلئے پولیس و فورسز نے ٹیرگیس شلنگ اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں آج ایک بارپھر سینکڑوں افراد زخمی ہوئے جن میں ایک نوجوان زخموں کی تاب نہ لاکر ابدی نیند سو گیا ۔اس طرح سے حالات نے سنگین رخ اختیار کیا ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہاں کے حالات کچھ ٹھیک نہیں ہیں کیونکہ آئے روزیہاں کسی بھی قتل وغارت اور افراتفری کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے اس کے بنیادی محرکات مسئلہ کشمیر کے حل میں تاخیر ہے ۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مرکزی یا ریاستی سرکار حالات کو قابو میں لانے کیلئے نت نئے فارمولے آزمائے رہے ہیں لیکن کشمیر ی عوام کے مجروح ہوئے جذبات ان حربوں کو تسلیم نہیں کررہی ہے بلکہ جد وجہد کوجاری رکھنے پر بہ ضد ہے ۔اب یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ ایک طرف بھارت کے حکمران کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیکر اس مسئلہ کو حل کرنے میں ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرہے ہیں ۔دوسری طرف کشمیری قوم اس مسئلہ کے حل تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں ۔اس طرح سے حالات میں سدھار آنا خارج از امکان ثابت ہورہا ہے اور دوہمسایہ ملکون پاکستان اور ہندوستان کے درمیان دوریاں اور اختلافات اسی کا نتیجہ ہے اور برصغیر میں پھیلی بد امنی بھی مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ہے ۔حالانکہ بھارت کے حکمران اور سیاستدان بھی قیام امن اور مسئلہ کے حل کیلئے کوشاں ہے ۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت کے حکمران اور دانشور تمام اکتلافات کو بالائے طاق رکھ کر اس تنازعہ کو حل کرنے کیلئے ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھائیں اور اس کا دائمی حل تلاش کریں تاکہ ان ملکوں میں پھیلی بدامنی اور کشیدگی پر قابو پایا جاسکے
Comments are closed.