نارکو ٹیرر کیس: دو ملزمان اور ان کے دیگر ساتھیوں کے خلاف چارج شیٹ دائر :ایس آئی اے ترجمان
سرینگر،18مارچ
ایس آئی اے نے ایک نارکو ٹیرر فنڈنگ ماڈیول کے سلسلے میں دو ملزمان اور ان کے دوسرے ساتھیوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔ایس آئی اے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ سٹیٹ انوسٹی گیشن ایجنسی نے پیر کے روز نارکو ٹیرر فنڈنگ معاملے میں دو ملزمان اور ان کے دوسرے ساتھیوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ زاہد خواجہ اور ضمیر احمد لون کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ اور یو اے پی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت خصوصی عدالت میں چارج شیٹ داخل کی گئی۔
ترجمان کے مطابق زاہد احمد خواجہ کو گزشتہ سال ستمبر کے مہینے میں گرفتار کیا گیا اور اس کے قبضے سے 3.565کلو گرام وزنی ہیروئن کی ایک بڑی کھیپ برآمد کی گئی جبکہ ضمیر احمد لون لشکر طیبہ کا ایک سرگرم دہشت گرد ہے جو کہ اصل میں کشمیر کا رہائشی ہے لیکن اب پاکستانی زیر قبضہ کشمیر /پاکستان میں مقیم ہے۔ان کے مطابق زاہد خواجہ اورضمیر احمد لون اور دیگرافراد نے کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مل کر سرحد پار سے غیر قانونی طورپر منشیات کی اسمگلنگ اوراس کے ذریعے فنڈز اکھٹے کرنے کی مجرمانہ سازش رچائی۔انہوں نے مزید بتایا کہ منشیات سے حاصل ہونے والی رقم کو مالی معاونت ، دہشت گرد کارروائیوں اور دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کی معاونت کے لئے استعمال میں لایا گیا۔
موصوف ترجمان نے بتایا کہ مجرمانہ سازش کی پیروی میں ملزمان اور ان کے دیگر ساتھیوں نے قریبی تال میل کی خاطر انکرپٹڈ میسجنگ اپیلی کیشنز کا سہارا لیا اور اس پر بات چیت کے ذریعے اقلیتی برادریوں کونشانہ بنا کر دہشت گرد ی کارروائیوں کے ذریعے منظم طریقے سے فرقہ وارانہ انتشار کا منصوبہ بنایا۔
ایس آئی اے کے مطابق وادی میں سرگرم مختلف دہشت گرد تنظیموں کی ہدایت پر ملزمان نے فنڈز کودہشت گردانہ کارروائیوں کو فروغ دینے کی خاطر استعمال میں لایا جس میں سرکاری عمارتوں، اقلیتی برادریوں، پولیس اہلکاروں کے رہائشی مکانات اور ایک سیاسی پارٹی کے دفتر کو نذر آتش کرنا شامل ہے۔انہوں نے کہاکہ ایس آئی اے نارکو ٹیرر فائنانسنگ ماڈیول کا پردہ فاش کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ان کے مطابق جموں وکشمیر یونین ٹریٹری میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں تخریبی کارروائیوں اور سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کی خاطر سرحد پار سے غیر قانونی طورپر اسمگل شدہ منشیات کی فروخت کے ذریعے فنڈز اکھٹا کرنے میں ملوث پائی گئی ہیں۔اس سلسلے میں تفتیش کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔
Comments are closed.