جیش محمد کے 5 بالائے زمین کارکنوں کو اسلحہ سمیت گرفتار کرنے کا دعویٰ

سرینگر:پولیس نے پانپور کے مختلف علاقوں میں ہوئے حالیہ گرینیڈ حملوں میں ملوث جیش محمد نامی جنگجو تنظیم سے وابستہ 5 بالائے زمین کارکنوں کو اسلحہ سمیت گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن میں ایک پاکستانی تربیت یافتہ سابقہ جنگجو بھی شامل ہے۔پولیس ذرائع نے کے ایم ا ین کو بتایا کہ پولیس، فوج کی 50 راشٹریہ رائفلز اور سی آر پی ایف110بٹالین سے وابستہ اہلکاروں نے ایک مصدقہ اطلاع کی بناءپر سجاد احمد بٹ ولد علی محمد ساکن ہیرگام ووئن پانپور کو گرفتار کرلیا۔ذرائع مطابق یہ گرفتاری پانپور اور کھریو سمیت اونتی پورہ کے کئی علاقوں میں حال ہی میں ہوئے گرینیڈ حملوں کی تحقیقات کے تناظر میں عمل میں لائی گئی۔سجاد احمد کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ وہ پاکستانی تربیت یافتہ سابقہ جنگجو ہے جو اب جیش محمد کےلئے بطور اوور گراﺅنڈ ورکر کام کرتا تھا۔ذرائع نے بتایا کہ دوران تفتیش سجاد احمد نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ اور اس کے کئی دیگر ساتھی ان گرینیڈ حملوں میں ملوث ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات کے دوران 4مزیدافراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی اور ان کی تحویل سے گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، تاہم پولیس نے ضبط شدہ اسلحہ کی تفصیل نہیں بتائی۔ان چاروں کے نام 26سالہ عمر غنی شیخ ولد عبدالغنی ساکن درنگہ بل پانپور ، 30سالہ جان محمد کھانڈے ولد عبدالرشید ساکن میچھ پانپور، 23سالہ اویس احمد بٹ ولد عبدالرشید ساکن دنک محلہ کھریو اور30سالہ مظفر حسین بٹ ولد غلام محمد ساکن تلی باغ پانپور کے بطور ظاہر کئے گئے۔گرفتار شدگان کے خلاف پولیس اسٹیشن پانپور میں دو الگ الگ ایف آئی آر زیر نمبرات02/2018 اور08/2018درج کرکے مزید چھان بین شروع کی گئی ہے۔ایس پی اونتی پورہ محمد زاہد ملک نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے کے ا یم ا ین کو بتایا کہ پہلے ترال کو جیش محمد کا ایک مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا لیکن جنگجو مخالف کارروائیوں کے نتیجے میں صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ تنظیم کے کئی اعلیٰ کمانڈر مارے گئے اورکئی خفیہ ٹھکانے تباہ کئے گئے جس کے نتیجے میں جنگجوﺅں نے اپنی سرگرمیاں کھریو، پانپور اور کاکہ پورہ علاقوں میںمنتقل کیں۔ایس پی اونتی پورہ کا مزید کہنا تھا”تمام اوور گراﺅنڈ ورکروں نے پوچھ تاچھ کے دوران اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ جیش محمد کے پاکستانی کمانڈر برائے جنوبی کشمیر مفتی وقاص کی ہدایت پر گرینیڈ حملے کرتے تھے جس نے حال ہی میں مارے گئے نور محمد تانترے (نورترالی) کی جگہ لی ہے“۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اوور گراﺅنڈ ورکروں کایہ نیٹ ورک نور ترالی نے ہی تشکیل دیا تھا جو25دسمبر2017کو پانپور کے ہی سامبورہ علاقے میں فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران مارا گیا تھا۔

Comments are closed.