’یوم یکجہتی کشمیر‘ کے پیش نظر ’کاروان امن‘ بس معطل
سری نگر: پاکستان میں ہر سال 5 فروری کو منائے جانے والے ’یوم یکجہتی کشمیر‘ کے پیش نظرگرمائی دارالحکومت سری نگر اور پاکستان زیر انتظام کشمیر کی دارالحکومت مظفرآباد کے درمیان چل رہی ہفتہ وار ’کاروان امن‘بس کو پیر کے روز معطل کیا گیا ۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’ہمیںمظفر آباد سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں بتایا گیا کہ وہاں یوم یکجہتی کشمیر کے عالمی دن کے موقع پر عام تعطیل ہوتی ہے اور اس کے پیش نظر کاروان امن بس کو آج معطل کیا جائے‘۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں طرف کی انتظامیہ نے باہمی اتفاق رائے کے بعد بس سروس کو آج معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جو مسافر آج اس ہفتہ واری بس سروس کے ذریعے سفر کرنے والے تھے، کو بس کی معطلی کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ہر سال 5 فروری کو پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں منائے جانے والے ’یوم یکجہتی کشمیر‘ کے موقع پر ملک بھر میں قومی تعطیل ہوتی ہے اور وادی کشمیر کے عوام سے یکجہتی کے لئے تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ 1999 ءمیں کرگل کی جنگ کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑے اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر شروع کی گئی یہ بس سروس وادی میں سال 2008 ئ، 2010 ءاور 2016 ءکی طویل احتجاجی تحاریکوں اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے باوجود جاری رہی۔ کاروان امن بس کا آغاز 7 اپریل 2005 کو ہوا تھا اور تب سے اِس کے ذریعے ہزاروں لوگ آرپار اپنے عزیز واقارب سے ملے ہیں۔ یو اےن آئی
Comments are closed.