مسئلہ کشمیر کا حل برصغیر کے دائمی امن کی واحد ضمانت : ڈاکٹر کمال
سرینگر// مسئلہ کشمیر کے حل کو برصغیر میں دائمی امن کی واحد ضمانت قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ جب یہ معاملہ حل نہیں ہوسکتا تب تک نہ تو ہندوستان اور پاکستان مضبوط دوست بن سکتے ہیں اور نہ ہی دونوں ممالک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے شیر کشمیر بھون جموں میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو 70سے سال لٹاکر اس مسئلہ کو انتہائی پیچیدہ بنادیا ہے۔ اس مسئلے کے لٹکے رہنے سے نہ صرف جموں وکشمیر مسلسل غیر یقینیت کی صورتحال سے دوچار ہے بلکہ ہندوستان اور پاکستان کی ترقی کی رفتار بھی ماند پڑھ گئی ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کی بنیادی وجہ یہ معاملے ہے ، جس کی وجہ سے دونوں پڑوسی دفاعی اخراجات پر حد سے زیادہ صرف کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے روشن مستقل کا راز دونوں پڑوسیوں کے مضبوط رشتوں، پکی دوستی اور دیر پا امن میں ہی مضمر ہے۔ ہندستان اور پاکستان کے پاس آپسی مسائل کو حل کرنے کیلئے بات چیت کے سوا اور کوئی راستہ نہیں، دونوں ممالک نے 4جنگیں لڑیں، ایک دوسرے کیخلاف دشمنی رکھی، الفاظی جنگیں لڑیں لیکن حاصل کچھ نہیں ہوا، الٹا حالات مزید ابدتر ہوتے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے کروڑوں لوگوں کی خوشحالی، تعمیر و ترقی اور دونوں ممالک کے آزادی صرف اور صرف دوستی سے ہی قائم و دائم رہ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ عدم تشدد اور بات چیت کے ذریعے ہی دنیا میں بڑے بڑے مسائل کا حل نکالا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ریاست میں بھی کافی خون بہایا گیا، بستیوں کی بستیاں اُجاڑا گیا، افسپا اور دیگر کالے قوانین کی آڑ میں نوجوانوں کی نسل کشی کی گئی۔ آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کشمیر کے حالات کو کہاں پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے موجودہ حالات مرکز کی ہٹ دھرمی اور بے رُخی کی دین ہیں۔سرحدوں پر جاری گن گرج اور آئے روز قیمتی جانوں کی تلافی پر تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر کمال نے کہا کہ دونوں ممالک کو سوجھ بوجھ سے کام لیکر یہ سلسلہ فوری طور پر بند کرنا چاہئے ۔انہوںنے ہندوستان اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ آر پار جموں وکشمیر کو جوڑنے والے تمام راستوں کو کھول کر لوگوں کی آواجاہی آسان بنائے تاکہ آر پار پچھڑے ہوئے کشمیری ایک دوسرے کے ساتھ پھر سے ماضی کی طرح گُل مل جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی کا کوئی متبادل نہیں۔
Comments are closed.