چیف سیکرٹری نے ایک ہفتہ طویل کشمیر سولر ایکسپو۔2023ءکا آغاز کیا
سری نگر/17مئی
چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے آج یہاں کشمیر ہاٹ نمائش گراﺅنڈ میں ایک ہفتہ طویل میگا سولر ایکسپو کا اِفتتاح کیا۔
جے اینڈ کے انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی ( جے اے کے اِی ڈی اے ) نے 17مئی سے 23 مئی تک منعقد ہونے والی اِس نمائش کا اِنعقاد قابل تجدید توانائی کی صنعت کے متعدد دکانداروں اور جموںوکشمیر کے دیگر لائن محکموں کے اِشتراک سے کیا ہے۔
چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے ایکسپو کے اِنعقاد کے لئے جے اینڈ کے انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی ( جے اے کے اِی ڈی اے )کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ اِس پہل سے لوگوں میں روف سولر پلانٹوں اور دیگر مستفید پر مبنی سکیموں کے فوائد کے بارے میں بیداری پیدا کرنے میں بہت مدد ملے گی۔
اُنہوں نے جے اینڈ کے انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی ( جے اے کے اِی ڈی اے )سے کہا کہ وہ جموںوکشمیر یوٹی کے دیگر حصوں میں اس طرح کے مزید بیداری کیمپوں اور نمائشوں کا اہتمام کرے تاکہ وہاں کے لوگ روف سولر پلانٹ ، کُسم سکیم اور اس سے فائنانسنگ پیٹرن اور فوائد کے بارے میں جان سکیں۔
چیف سیکرٹری نے کہا کہ توانائی کے قابل تجدید ذرائع کا مستقبل ہے اور حکومت قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دے کر فوسل فیول پر اَنحصار کم کرنے سے مستقبل کا تصور کرتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کاربن کے اَخراج کو کم کرنے ،روف سولر پروگرام سے شمسی توانائی کی پیداوار جموں وکشمیر میں گھریلو صارفین کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرے گی تاکہ ہمارے پاور ڈسکام کو باقی صارفین کو معیاری بجلی فراہم کرنے میں مددفراہم کی جاسکے۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ وہ بڑے اقدامات ہیں جن کا مقصد توانائئی کے لئے فوسل فیول پر لوگوں کا اَنحصار کم کرنا ہے ۔ اُنہوں نے مشاہدہ کیا کہ آخرکار مستقبل قابل تجدید توانا ئی کا ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ صاف اور کم مضر صحت کے علاوہ توانائی لوگوں کے لئے سستی ہے ۔ اُنہوں نے ان سے کہا کہ وہ اس مستقبل کی ٹیکنالوجی کو اپنے گھریلو اور زرعی مقاصد کے لئے آسانی سے اَپنائیں تاکہ اَپنے وسائل اور ماحول کو بھی بچایا جا سکے۔
اِس موقعہ پر کمشنر سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سوربھ بھگت نے کہا کہ محکمہ اِن دونوں سکیموں کے فروغ کے لئے ٹھوس کوششیں کررہا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ مرکزی وزارتِ نئی اور قابل تجدید توانائی کی سکیموں کے تحت جموںوکشمیر یوٹی بھر کے گھریلو بجلی کے صارفین بجلی کے مقصد کے لئے روف ٹاپ سولر پی وِی پلانٹس لگاسکتے ہیں اور پی ایم۔ کُسم کے تحت شمسی توانائی سے چلنے والے پمپوں کی تنصیب کا فائدہ بھی حاصل کرسکتے ہیں تاکہ ان کی آبپاشی ضروریات پورا کیا جاسکے۔
Comments are closed.