ماہ مبارک:نمازیوں سے پہلے گداگر پہنچے مسجدوں تک دور جدید میں بھکاری بھی سائنٹفک طریقوں سے بھیک مانگنے کی کاوشوں میں مصروف
سرینگر /26مئی
ماہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی شہر وقصبہ جات میں مقامی اور غیر مقامی گدا گروں نے اپنے ڈھیرا جما لیا۔ گدا گری کا پیشہ قدیم ہے، اس کی ابتدا ء کب اورکیسے ہوئی؟ تاریخ بھی اس کی تاریخ بتانے سے قاصر ہے۔تاہم دو ر حاضر کے گدا گروں نے گدا گری کو جدید خطوط پر استوا رکر کے مانگنے کے ایسے ایسے نئے طریقے ایجاد اور اختراع کر لئے ہیں کہ بھکاریوں کی افتاد طبع کو بے ساختہ داد دینا پڑ جاتی ہے۔اطلاعات کے مطابق ماہ رمضان نے پورے عالم میں دستک دی ہے اور وادئ کشمیر میں بھی اس حوالے سے تیاریاں شروع ہوچکی ہیں ۔ممکنہ طور پر وادئ کشمیر میں پہلا روزہ اتوار ہوگا کیو نکہ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں میں رمضان المبارک کا چاند نظر نہیں آیا لہٰذا سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں پہلا روزہ 27 مئی بروز ہفتہ کو ہوگا۔ماہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی گداگری کے پیشہ نے بھی دستک دینا شروع کردیا ہے ۔جمعہ کو شہر وقصبہ جات میں چھوٹی بڑی مساجد ،زیارت گاہوں اور خانقاہوں کے باہر مقامی اور غیر مقامی گدا گروں نے اپنے ڈیرے جمالیئے ۔ کشمیرمیں گدا گری کا پیشہ قدیم ہے، اس کی ابتدا کب اورکیسے ہوئی؟ تاریخ بھی اس کی تاریخ بتانے سے قاصر ہے۔ غربت، مہنگائی، ناخواندگی اور بیروزگاری کے باعث اندرونی ریاست کے کئی علاقوں سے بھوک و افلاس سے تنگ آکر شہر سری نگر اور دیگر قصبہ جات کا رخ کرتے ہیں اور یہاں بھیک مانگنے کے پیشے سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔امسال رمضان المبارک کے آتے ہی انھوں نے شہر سری نگر کو اپنے نرغے میں لے رکھا ہے انھیں بھیک مانگنے کا فن خوب آتا ہے، معصوم چہرہ بناتے ہوئے دلوں میں چوٹ لگانے والے نفسیاتی حربے استعمال کرنا ان کا فن ہنر ہے خاص طور پر مخصوص مقامات کے اعتبار سے ان کی غمگین صدائیں دل کو موم کردیتی ہیں انھیں اگر کاروباری علاقے میں بھیک مانگنا ہوتا ہے تو وہاں یہ اپنے معصوم بچوں کو پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس کرتے ہیں، سر کے بال بکھیردیے جاتے ہیں اور پاؤں سے جوتے غائب کر دیے جاتے ہیں یعنی پاؤں ننگے ظاہر کرتے ہیں اور ان کی زبان سے ترقی کرنے کی دعائیں ہوتی ہیں۔مساجد ،زیارت گاہوں اور خانقاہوں کے ساتھ ساتھ ٹریفک سگنل کے ارد گرد غول کے غول نظر آنے والی یہ گداگر جن میں زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں ، طرح طرح کی دعائیں دیتے ہیں، سرکاری اسپتالوں کے باہر خواتین گداگر ہاتھوں میں دواؤں کے نسخے اٹھائے والدین کو ان کے بیمار بچوں کا واسطہ دینے اور شفایاب ہونے کی دعا دینے کے بعد دوائیں خریدنے کے لیے پیسے مانگتی ہیں، شہری ان کی درد مند صداؤں سے متاثر ہوکر انھیں دوائیں خرید کر دے دیتے ہیں جنھیں بعد میں گداگر خواتین میڈیکل اسٹور پر واپس کرنے کے بعد پیسے وصول کرلیتی ہیں۔ان گداگروں کی اکثریت خواتین و بچوں اور بوڑھوں پر مشتمل ہوتے ہیں جو بیرون ریاست سے آتے ہیں۔بیرون ریاست سے آنے والے گداگروں کا کہنا ہے کہ وہ ہر سال رمضان کی آمد پر کشمیر وارد ہوتے ہیں اور یہیں عید بھی گزارتے
Comments are closed.