سنہا ہوں یا ائر کشمیر ہر بھارتی سیاستدان کے لئے بھارت کی ایک کالونی ہے:انجینئر رشید آنند شرما نے کانگریس کو اور بھی بے نقاب کیا،کشمیری عوام حق خود ارادیت سے کم کسی چیز پر آمادہ نہیں

ہندوارہ//
کانگریس ترجمان آنند شرما کے اس بیان پر ،کہ کانگریس کا منی شنکر آئر کی کشمیر میں جاری سرگرمیوں کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے،رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے کہا ہے کہ کشمیری عوام ویسے بھی ہندوستان کی کسی بھی پارٹی سے یہ توقع نہیں رکھتے ہیں کہ اسے کشمیریوں کی ذرہ سی بھی فکر ہے اور وہ سنجیدگی سے مسئلہ کشمیر کا حل چاہتی ہے۔آج یہاں زندگی کے مختلف طبقوں سے وابستہ لوگوں سے تبادلۂ خیال کے دوران انجینئر رشید نے کہا کہ جس طرح بی جے پی نے یشونت سنہا کے مشن کشمیر کو انکی ذاتی سرگرمی بتاکر خود کو ان سے الگ کردیا اسی طرح کانگریس نے بھی منی شنکر ائر سے پلو جھاڑ دیا ہے حالانکہ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ مسٹر سنہا اور ائر دونوں ہی ایک سوچے سمجھے سرکاری منصوبے کے تحت کام کر رہے ہیں۔انجینئر رشید نے اس موقعہ پر کہاکہ اگر کانگریس مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کبھی سنجیدہ رہی ہوتی تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ مسئلہ کشمیر دہائیوں قبل حل نہ ہوا ہوتا۔انہوں نے کہا کہ بدلے ہوئے حالات میں ہو سکتا ہے کہ کوئی فرد یا جماعت کانگریس کے حوالے سے اس زعم میں مبتلا ہوتی کہ وہ واقعی کشمیریوں کی فکر کرنے لگی ہے تو ان لوگوں کو آنند شرما کے بیان کو دیکھتے ہوئے بیوقوفوں کی جنت سے باہر آنا چاہیئے۔عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ نے مزید کہا کہ آنند شرما نے سبھی خوش فہمیوں کو دور کرتے ہوئے واضھ کردیا ہے کہ پارٹی نام نہاد قومی مفاد پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے پر آمادہ نہیں ہو سکتی ہے۔ہندوستان کی سیاسی جماعتوں اور انکے مقامی حاشیہ برداروں پر موقعہ پرستی کی سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر سرینگر میں ایک بات کرتے ہیں،رمن بھلہ اور دیگر لیڈر جموں میں میر کی باتوں کو رد کرتے ہیں اور نئی دلی میں کانگریس کی مرکزی قیادت کشمیریوں کے خلاف ہونے والے ہر جارحانہ اور بربریت کے اقدام کی حمایت کرنے میں پیش پیش رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب جبکہ کانگریس کی دروگوئی ایک بار پھر بے نقاب ہوچکی ہے کشمیر مسئلے کو لیکر نام نہاد ’’کشمیر کنکلیو‘‘کا انعقاد کرنے کے لئے پر تولنے والوں کو پیشگی واضح کردینا چاہیئے کہ انہیں کس حد تک منڈیٹ حاصل ہے اور اس مجوزہ کنکلیو کا ایجنڈا اور مقصد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ماضی میں نئی دلی نے کشمیری کمیٹیاں بنائیں،مذاکرات کارتعینات کئے اور پاکستان کے ساتھ باہمی معاہدے کئے اسی طرح ابھی منی شنکر ائر اور یشونت سنہا کو، یہ تاثر دینے کی آڑ میں کہ وہ کشمیریوں کے لئے پریشان ہیں اور مسئلہ کشمیر کے حل کا راستہ بنانا چاہتے ہیں،کشمیریوں کو ’’شانت‘‘کرنے کے لئے کام پر لگادیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جو کوئی بھی بھارتی سیاستدان کشمیر آتا ہے اسکا ایک متفقہ ایجنڈا بھی ہوتا ہے اور اسے بی جے پی،کانگریس و دیگراں کی حمایت و تائید بھی حاصل ہوتی ہے لہٰذا کشمیریوں کو ابہام کا شکار ہوئے بغیر سمجھ لینا چاہیئے کہ ہر بھارتی سیاستدان کے لئے جموں کشمیر بھارت کی ایک کالونی ہے۔انجینئر رشید نے کہا کہ جو کوئی بھی ان ’’کرائسز منیجروں‘‘سے ملے اسے انہیں صاف صاف کہدینا چاہیئے کہ کشمیری عوام حق خود ارادیت سے کم کسی بھی چیز پر آمادہ نہیں ہیں اور نہ ہی کبھی آمادہ ہو سکتے ہیں۔

Comments are closed.