حرکت قلب بند ہونے کے واقعات :عام لوگوں کو سی پی آر تربیت فراہم کی جائے /ڈاک

سرینگر/27جنوری/
وادی کشمیر میں دل کا دورہ پڑنے کے واقعات پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے لوگوں کےلئے ”سی پی آر“ کارڈیو پلمونری ریسیسیٹیشن تربیت کا مطالبہ کیاہے تاکہ وقت رہتے اس انسان کی جان بچائی جاسکے جس کودل کا دورہ پڑاہو اوراسے بچانے کے امکانات ہوں ۔
تفصیلات کے مطابق وادی کشمیر میں اچانک دل سے ہونے والی اموات کی تعداد میں اضافے پر تشویش کااظہارکرتے ہوئے ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کشمیر نے جمعہ کو وسیع پیمانے پر کارڈیو پلمونری ریسیسیٹیشن (سی پی آر) ٹریننگ کا مطالبہ کیاجس سے جانیں بچائی جاسکتی ہے ۔
ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثار الحسن نے کہاکہ ہر کسی کو CPR کے لیے تربیت دی جانی چاہیے، چاہے وہ میڈیکل کے شعبے میں کام کرتے ہوں یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ سی پی آر کو اسکول کے نصاب کے ایک حصے کے طور پر بھی پڑھایا جانا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ جان بچانے والی اس مہارت سے واقف ہوں۔
سی پی آر ایک ہنگامی زندگی بچانے والی تکنیک ہے جس میں 100 سے 120 فی منٹ کی شرح سے سینے کے دباو¿ کو شامل کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر حسن نے کہا کہ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ سی پی آر ایک سادہ لیکن اہم ہنر ہے جسے ہر کسی کو سیکھنا چاہیے اور پھر ہنگامی حالات میں اس پر عمل کرنا چاہیے۔اگرچہ سی پی آر زندگی بچانے والی سب سے اہم تکنیکوں میں سے ایک ہے، لیکن بدقسمتی سے کشمیر میں زیادہ تر لوگ سی پی آر کو انجام دینے کا طریقہ نہیں جانتے ہیں۔

Comments are closed.