برف کو ہٹانے کے دوران لوگ احتیاط برتیں / ڈاکٹرس ایسوسی ایشن
سرینگر/12جنوری/ وادی کشمیر میں تازہ برف باری کے ساتھ، ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن کشمیر نے جمعرات کو لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنے گھروں کی چھتوں، فٹ پاتھوں یا سڑکوں سے برف ہٹانے کے دوران محتاط رہیں کیوں کہ برف میں آکیسجن کم ہوتا ہے اور اس میںزیادہ محنت کرنے سے ہارٹ اٹیک کاخطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ سی این آ¾ی کے مطابق ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا کہ برف کو ہٹانے کے دوران آپ کے دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ڈاکٹر حسن نے کہا کہ بھاری برف اٹھانے سے بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن میں اچانک اضافہ ہوتا ہے جس سے دل پر زیادہ دباو¿ پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کو برف میں آکسیجن کم مقدار میں گردش کرتا ہے اور سخت سردی میں شریانیں تنگ ہوجاتی ہیں اور خون کی سپلائی کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے دل کا دورہ پڑنے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے ۔ ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ سب سے زیادہ خطرے میں وہ لوگ ہیں جو زیادہ تر بیٹھے رہتے ہیں اور زیادہ جسمانی محنت کا کام نہیں کرتے اور اچانک سال میں ایک بار برف اُٹھانے کی وجہ سے ان کے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے ۔ا س کے علاوہ جو افراد دل کے عارضہ میں پہلے ہی مبتلاءہوں ان کو بھی اس طرح کے کام سے دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ رہتاہے ۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو دل کی تکلیف ہے انہیں برف کو بالکل نہیںاُٹھاناچاہیے۔ڈاکٹر نثار نے خبردار کیا کہ دل کے مسائل سے دوچار لوگوں کو بھی ایسا کرتے وقت محتاط رہنا ہوگا۔ اس کے علاوہ سیگریٹ نوشی کرنے والے ، نشہ کے عادہ ،ہائی بلڈ پریشر ، کولسٹرول کے مریضوں کو بھی اس طرح برفباری کے دوران زیادہ محنت کرنے خاص کر برف ہٹانے کے کام سے گریز کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ بیلچہ چلاتے وقت بار بار وقفے لینا اور اسی وقت اچھی طرح ہائیڈریٹ رہنا بہت ضروری ہے۔برف گرنے کے فوراً بعد جب یہ ہلکی اور تیز ہوتی ہے اور بیلچہ چلانے سے 30 سے 60 منٹ پہلے اور بعد میں بھاری کھانے سے پرہیز کرنے سے دل پر بوجھ کم ہو جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ تہوں میں کپڑے پہننا، دستانے، موزے کا استعمال اور بیلچہ چلاتے وقت اپنے سر، گردن اور چہرے کو ڈھانپنے سے دل کے دورے کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
Comments are closed.