ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت۔۔۔۔سہولت یا فکری زوال؟
تحریر : ناظم نذیر
جدید ٹیکنالوجی انسان کے لیے ہر اعتبار سے راحت رساں ثابت ہو رہی ہے۔ ٹیکنالوجی موجودہ دور کی ضرورت ہے، لیکن جہاں اس کے مثبت پہلو ہیں وہیں اس کے منفی اثرات بھی زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ٹیکنالوجی نے ایسا انقلاب برپا کیا ہے کہ انسان کا سفر، رہن سہن اور روزمرہ کا کام کاج بے حد آسان ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان تن آسان بنتا جا رہا ہے، جبکہ اس سے قبل وہ محنت اور سخت کوشی کی زندگی بسر کرتا تھا۔
ابتدا میں ٹیکنالوجی انسان کو صرف جسمانی آرام فراہم کرتی تھی، لیکن اب ChatGPT اور دیگر مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ایپلی کیشنز انسانی دماغ کو تقویت دینے کے بجائے اسے کمزور بنانے کا سبب بن رہی ہیں۔ اگرچہ عام تاثر یہ ہے کہ ان ایپلی کیشنز کے استعمال سے ہمارا کام آسان ہو رہا ہے، لیکن اس کے نتائج مستقبل قریب میں نہایت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
آج ہر قسم کی تحریریں انہی ایپلی کیشنز کی مدد سے لکھی جا رہی ہیں۔ مصنوعی تحریروں کے فروغ سے اگرچہ علم میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ یہ علم عارضی نوعیت کا ہے، کیونکہ یہ مشینوں کی پیداوار ہوتا ہے۔ اس عمل سے انسانی ذہن کمزور پڑ جاتا ہے، کیونکہ تخلیق اور تحریر کے لیے درکار ذہنی مشقت ہی دراصل ذہن کو تازگی اور قوت بخشتی ہے۔
یہ صورتحال ایک شیر خوار بچے کی مانند ہے، جسے اس کی ماں دودھ اور دیگر غذائی اجزاءفراہم کرتی ہے۔ اس سے بچے کو توانائی تو ملتی ہے، لیکن وہ خود سے غذا حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اسی طرح جو انسان ChatGPT یا دیگر AI ٹولز پر انحصار کرتا ہے، وہ خود سوچنے اور تخلیق کرنے کے بجائے شارٹ کٹ کا عادی ہو جاتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے افراد بظاہر دوسروں کو یہ باور کرا دیتے ہیں کہ ان میں غیر معمولی صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن حقیقت زیادہ دیر چھپی نہیں رہتی۔ حال ہی میں ادارہ تعمیلِ ارشاد کی جانب سے ”نزولِ قرآن“ کے موضوع پر ایک مقابلہ جاتی مضمون نویسی کا اہتمام کیا گیا، جس میں کئی تحریریں ChatGPT سے ماخوذ پائی گئیں۔ جانچ پڑتال کے بعد واضح ہوا کہ یہ مضامین اصل لکھاریوں کی اپنی تخلیق نہیں تھے بلکہ مصنوعی ذرائع سے حاصل کیے گئے تھے۔
اگرچہ یہ ایک مثبت پہلو بھی ہے کہ لوگ لکھنے کی طرف راغب ہو رہے ہیں، لیکن دوسری طرف یہ ایک دھوکہ بھی ہے۔ یہ عمل دوسروں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ خود اپنے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ آج کل یہ رجحان ہر شعبے میں تیزی سے پھیل رہا ہے، جس پر سنجیدہ حلقوں اور دانشوروں کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر اس مسئلے پر بروقت توجہ نہ دی گئی اور نئی نسل، خصوصاً اسکول کے طلبہ کو اس کے بے جا استعمال سے نہ روکا گیا تو مستقبل مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتا ہے۔ اگر کسی وقت یہ ٹیکنالوجی ناکام ہو جائے یا اس میں کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو ہمارے پاس بنیادی تحریری صلاحیتیں رکھنے والے افراد کی کمی ہو سکتی ہے، جو ایک بڑا مسئلہ بن جائے گا۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کی ذہنی صلاحیتوں کو برقرار رکھتے ہوئے ان میں خود سے سیکھنے اور لکھنے کی عادت پیدا کریں۔ آج کے اس تیز رفتار دور میں بہت سے حساس اور باشعور افراد مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
وسطی کشمیر کی ایک ممتاز نوجوان قلمکار گاش روحی نے اپنے مضمون ”ادب اور مصنوعی ادب“ میں اس مسئلے کی بہترین عکاسی کی ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ:”آج کے عہد میں ادب کو سب سے بڑا خطرہ کسی سنسرشپ سے نہیں بلکہ مصنوعی تخلیق سے ہے۔ ٹیکنالوجی نے ایسے افراد کو بھی قلم دے دیا ہے جن کا ادب سے کوئی حقیقی تعلق نہیں۔“
بقولِ غالب؛
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریرِ خامہ نوائے سروش ہے
اس شعر کی روشنی میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اصل ادب فکر، احساس اور مشاہدے سے جنم لیتا ہے، نہ کہ کسی مشین سے۔ سچا ادیب وہی ہے جو اپنے تجربات اور جذبات کو قلم بند کرے۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ مصنوعی تحریریں سوشل میڈیا پر داد سمیٹ رہی ہیں جبکہ اصل ادیب پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ قارئین بھی اکثر اس فرق کو محسوس نہیں کر پاتے، جس سے ادب کا معیار متاثر ہو رہا ہے۔‘یہ کہنا کہ ”ہم نے صرف مدد لی ہے“ایک کمزور دلیل ہے، کیونکہ جب خیال، اسلوب اور اظہار سب کچھ مشین کا ہو تو لکھنے والے کا کردار محض نام تک محدود رہ جاتا ہے۔
اگر یہ رجحان جاری رہا تو ادب اپنی روح کھو بیٹھے گا۔ الفاظ تو موجود ہوں گے، لیکن ان میں احساس اور تاثیر نہیں ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ادبی دنیا خود احتسابی کرے اور اس بات کو تسلیم کرے کہ مشین سہولت تو فراہم کر سکتی ہے، لیکن تخلیق کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔“
ایک نامور قلمکار ممتاز احمد نے” سماجی اور علمی حلقوں میں اے آئی کا بڑھتا رجحان “ کے عنوان کے تحت یواین آئی رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ہم بہت زیادہ سہل پسند ہوگئے ہیں ۔ہمارے کام کرنے کے طریقوں میں بہت آسانیاں پیداہوگئی ہیں
ہم بلاجھجھک اور بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ اس کا استعمال کررہے ہیں۔ ایک حد تک تو اس کا استعمال بجا ہے لیکن اس پر انحصار سے گریز کرنا چاہئے ۔ اس سے انسانی اذہان کا کُند ہونے کا خطرہ ہے بصورت دیگر ہم اے آئی کے غلام بن کر رہ جائیں گے اور ہماری تخلیقی صلاحیت پر منفی اثر پڑے گا۔ جو چیز انسانی تخلیقی صلاحیتوں کو منفرد و مخصوص بناتی ہے وہ غیر معقول چھلانگ لگانے کی ہماری صلاحیت یا جبلی انداز ہے ، یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی نقل تیار کرنا یا اس کا توڑ کرنا اے آئی کے لئے مشکل ہے ۔ آئے دن ہم دیکھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت پر مکمل انحصار کرنے سے چند ایسی اغلاط سر زد ہوجاتی ہیں جس سے ہمیں خجالت اور شرمند گی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ہم مصنوعی ذہانت کے شعبے میں خواں کتنی ہی ترقی کیوں ک نہ کرلیں ، اس کا انسانی اذہان سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ذہن انسان کی بالا دستی اور اس کی اہمیت بہر حال برقرار رہے گی۔
آخر یہ کہنا بجا ہوگا کہ انسان کا دماغ قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے، جسے استعمال اور مشق کے ذریعے ہی مضبوط رکھا جا سکتا ہے۔ ہر شخص ادیب یا شاعر نہیں بن سکتا، کیونکہ یہ خداداد صلاحیت ہوتی ہے، لیکن ان صلاحیتوں کو نکھارنا اور دوسروں تک منتقل کرنا ہر صاحبِ علم کی ذمہ داری ہے۔
اسلام میں بھی علم کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:”تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔“
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ٹیکنالوجی کو صرف ایک معاون کے طور پر استعمال کریں، نہ کہ اس پر مکمل انحصار کریں، تاکہ ہماری فکری اور تخلیقی صلاحیتیں برقرار رہ سکیں۔
Comments are closed.