بی ایف 7ویرنٹ کے خلاف ہمارے پاس کافی مدافعت ہے /ڈاکٹرس ایسوسی ایشن
شسرینگر/26دسمبر/ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ کووڈ کی تازہ لہر جس میں بی ایف 7وائرنٹ کا زیادہ اثر ہے نئی لہر کے پیدا ہونے کا اس سے اہتمام نہیں ہے اور اس لئے لوگوں کو اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ سی این آئی کے مطابق کووڈ کی تازہ لہر کے بارے میں ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ لوگوں کو اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ایسوسی ایشن کے صدر اور انفلوئنزا کے ماہر ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا، "BF.7 ہمارے لیے تشبیہ نہیں ہے اس کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بی ایف 7جو کہ اس وقت چین میں زیادہ تر پھیل رہا ہے بی اے 5اومک کی ایک نیچے سطح کی قسم ہے جو زیادہ تر ایک دوسرے میں منتقل نہیں ہوسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ فروری 2021میں پہلی بار دیکھی گئی تھی اور اب تک 91ممالک میں اس نے گردش کی ہے البتہ اس سے عالمی سطح پر حاصل کردہ نمونے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نمونیا کے پھیلاﺅ کےلئے یہ صرف 0.5فیصدی ہی ذمہ دار ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان میں اس کا پتہ رواں برس کے جولائی مہینے میں چلا تھا اور یہ اومیکرون وائرنٹ سے کافی ہلکا وائرس ہے جو تیزی سے نہیں پھیل سکتا۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ وادی کشمیر میں ٹیکہ کاری کی سطح بہتر ہونے اور قدرتی طور پر اس طرح کے وائرس سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے ہمارے پاس کافی قوت مدافت ہے جس کے آگے بی ایف 7وائرس کافی کمزور ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی ایف 7بنیادی طور پر ایک وائرس ہے اور ہم اکثر جنوری میں اومکرون لہر سے گزرتے ہیں۔ ہمیں اس بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کوروناوائرس ایک بیماری کی صورت میں اب دنیا میں موجود ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کےلئے ہمیں احتیاطی تدابیر سے کام لینا ہوگا البتہ موجودہ نئی لہر کا وادی میں کافی کم اثر دیکھنے کو ملے گا۔
Comments are closed.