مطالبات منوانے کیلئے جسمانی طور خیز افراد کا پریس کالونی سرینگر میں پھر احتجاج
سرینگر /26دسمبر /
مطالبات منوانے کیلئے جسمانی طور خیز افراد کی انجمن جموں کشمیر ہینڈی کپیڈی ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر سرینگر کی پریس کالونی میں صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے دیرینہ مطالبات حل کئے جائیں ۔ سی این آئی سٹی رپورٹر کے مطابق پریس کالونی سرینگر میں اس وقت ” ہماری مانگیں پورا کروں “ ، ہمارے ساتھ انصاف کروں “ کے نعرہ سنی گئی جب جموں کشمیر ہینڈی کپیڈ ایسوسی ایشن کے بیتر تلے درجنوں جسمانی طور پر نا خیز افراد نے احتجاج شروع کیا ۔ اس موقعہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے جموں کشمیر ہینڈی کپیڈ ایسوسی ایشن کے صدر عبد الرشید بٹ نے بتایا کہ میں میڈیا کے ذریعے یہ بات سرکار تک پہنچانا چاہتا ہوں کہ بار بار ہم نے مطالبات کو حل کرانے کی مانگ کی تاہم آج تک ایسا نہیں کیا گیا اور نہ ہی ہمارے مطالبات حل کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ اور مرکزی حکومت معذور افراد کے معاملات / مطالبات کو حل کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔جیسا کہ ہم نے متعدد بار سرکاری عہدیداروں اور مرکزی حکومتوں سے ملاقات کی تاہم ہمیں صرف یقین دہانی اور اس کے سوا کچھ نہیں دیا گیا ہے لیکن زمینی سطح پر بھی کچھ نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بطور صدر میں مزید کہنا چاہتا ہوں کہ محکمہ سوشل ویلفیئر نے جسمانی طور معذور افراد کو ابھی تک تنگ کرنا بند نہیں کیا۔ اس لئے جسمانی طور معذور افراد 26 دسمبر کو پریس کالونی سرینگر میں ایک زور دار احتجاج کرنے پر مجبور ہو گئے۔ بٹ کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ سوشل ویلفیر کے کمشنر سیکرٹری کی جانب سے وائرفکیشن کے عمل کا سلسلہ جو شروع کیا گیا ہے وہ جسمانی طور نا خیز افراد کیلئے ایک باعث پریشانی عمل ہے اور اس کو ختم کر دینا چاہے کیونکہ اس عمل سے نا خیز افراد کی پریشانی بڑھا دی گئی ہے اور انہیں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اب ہم حکومت کو 25دسمبر تک کا وقت دیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ ہمارے تمام مطالبات کو پ±ر کیا جائے تاہم آج تک ہمارے مسائل کو حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی گئی ہے۔ جس کے باعث ہم ایک مرتبہ پھر احتجاج کی راہ لینے پر مجبور ہو گئے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہم ایسا نہیں کرنا چاہتے تھے تاہم سرکار ہم اس کیلئے مجبورکر رہی ہے ۔
Comments are closed.