لیفٹیننٹ گورنر نے تین نئی سکیموں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی ہمہ گیر ترقی ،اسپریشنل پنچایت ترقیاتی اوراسپریشنل ٹاو¿نز ترقیاتی پروگرام کا اعلان کیا

جموں وکشمیر کامیابی کی نئی بلندیوں کو چھونے کیلئے آگے بڑھنے کےلئے پُر عزم / منوج سنہا

جموں/21دسمبر
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج تین نئی سکیموں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی مجموعی ترقی ، اسپریشنل قصبوں کی ترقی کا پروگرام اور اسپریشنل پنچایت ترقیاتی پروگرام کا اعلان کیا ۔اِنتظامی کونسل نے لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میںاِن منصوبوں کی منظوری دی ہے۔
سکیم اوّل: زراعت اور اِس سے منسلک شعبوں کی ہمہ گیر ترقی
اِس برس جولائی میں جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ نے زراعت اور اِس سے منسلک شعبوں کی ہمہ گیر ترقی کے لئے ایک اعلیٰ کمیٹی تشکیل دی جس کے لئے سابق ڈی جی آئی سی اے آر ڈاکٹر منگلا رائےس کے چیئرمین کے طور پر اور سی اِی او این آر اے اے ڈاکٹر اشوک دلوائی کے علاوہ زراعت ، منصوبہ بندی ، شماریات اور اِنتظامیہ شعبے میں دیگر معروف شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا۔مشن موڈ میں کام کرنے والی کمیٹی نے پانچ ماہ کے ریکارڈ وقت میں اے پی ڈی کے دائرہ کار میں تمام شعبوں کا احاطہ کرنے والے 29 منصوبوں کی شکل میں ایک جامع منصوبہ بنایا ۔ اِن منصوبوں کی انوکھی بات یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ انہیں ملک کے چند بہترین شخصیات نے تیار کیا ہے بلکہ یہ حقیقت بھی ہے کہ ان کی تشکیل مشاورتی انداز میں کی گئی تھی ۔اِس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ہمارے کسانوں سمیت تمام شراکت داروں کی رائے کو آن بورڈ لیا جائے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،”مجھے یقین ہے کہ جموںوکشمیر یوٹی کے زراعت اور اِس سے منسلک شعبوں میں ایک نیا انقلاب آنے والا ہے ۔ کامیابی کی نئی بلندیوں کو چھونے کے لئے آگے بڑھنے کے لئے پُر عزم ہے۔“
وہ منصوبے جن کی اَب اِنتظامی کونسل نے منظوری دی ہے اوراَگلے پانچ برسوں میں 5,013 کروڑ روپے جموںوکشمیر کی زرعی معیشت کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرے گا ، شعبوں کی پیداوار کو دوگنا کرے گا ، برآمدات کو فروغ دے گا اور شعبوں کو دیرپا اور تجارتی طور پر قابل عمل بنائے گا ۔ یہ جموںوکشمیر میں کسانوں کی خوشحالی اور رورل لائیو لی ہڈ کے تحفظ کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کرے گا۔
یہ اُنتیس منصوبے شعبوں کی پیداوار کو تقریباً دوگنا کریں گے ۔، برآمدات کو فروغ دیں گے او رشعبوں کو دیرپا اور تجارتی طور پر قابل عمل بنائیں گے ۔ یہ فوائد مساوی ہوں گے جو ہر فرد تک پہنچیں گے اور خوراک اور صنعت کے لئے حیاتیاتی وسائل کے مو¿ثر اِستعمال سے ماحولیاتی طورپر پائیدار ہوں گے ۔ زرعی پیداوار جو کہ 37,600 کروڑ روپے ہے ، 28,142 کروڑ روپے سے زیادہ بڑھ کر سالانہ 65,700 کروڑ روپے تک پہنچ جائے گی جس کے نتیجے میں شعبہ جاتی شرح نمو میں 11فیصد تک اِضافہ ہوگا۔اِن اقدامات سے زائد اَز 2.8 لاکھ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور تقریباً 19,000 کاروباری اِدارے قائم ہوں گے ۔ جس میں 2.5 لاکھ سے زیادہ افراد بیج کی پیداوار، سبزیوں کی کھیتی، مگس بانی، ککون کی پیداوار، مشروم فارمنگ، مربوط اور نامیاتی زراعت، اعلیٰ کثافت پھلوں کی فارمنگ سے لے کر پروسسنگ، ڈیری، بھیڑ اور پولٹری فارمنگ کے ساتھ ساتھ چارے کی پیداوارشامل ہیں۔ اگلے پانچ پرسوں میں جموںوکشمیر یوٹی کے پاس تجارتی طور پر قابل عمل اور ماحولیاتی طور پر دیرپا زرعی ماحولیاتی نظام میں زرعی کاروباری مہارت کے ساتھ ایک حوصلہ افزا افرادی قوت ہوگی۔
انتیس منظور شدہ منصوبوں کے اہم نتائج اور ممکنہ نتائج میں شامل ہیں:
۱۔اِس اقدام کے نتیجے میں معیاری بیج کی 2.596 لاکھ کیو ٹی ایل ایس کی کاشت سے تجویز کردہ بیج کی تبدیلی کی شرح کاحصول فصل کے لحاظ سے پیداوار میں 15فیصد سے 45فیصد کے درمیان اِضافہ ہوگا ۔
۲۔ طاق فصلوں (جیسے زعفران، کالازیرہ، راجماش، باسمتی وغیرہ) کی پیداوار کو تنوع سے ان کی کاشت کے تحت اضافی 11,000 ہیکٹر لا کر بڑھایا جائے گا۔ نئی نرسریوں اور بیجوں کے گاو¿ں کے قیام سے ان فصلوں کا معیاری پودے لگانے کا مواد جی آئی ٹیگنگ اور کمپیکٹ ویلیو چین کے ساتھ دستیاب کیاجائے گا۔
۳۔ سبزیوں میں خود انحصاری اور برآمد کے لئے غیر ملکی اقسام کی پیداوار کو بڑھاناہے۔ سبزیوں کی پیداوار 19.90 لاکھ سے بڑھ کر 25.87 لاکھ میٹرک ٹن ہو جائے گی۔ نئے 11,00 ہائی ٹیک گرین ہاو¿سز اور 3,548 پولی ہاو¿س قائم کئے جائیں گے جن کی فصل کی شدت کو 250 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔
۴۔ فصل کے بعد اور مارکیٹنگ ویلیو چینوںکے ایک نیٹ ورک کی تخلیق دیہی کاروبار اور سروسز ہبوں سے منڈیوں تک ریفر وینز، 67,000 میٹرک ٹن سی اے سٹوریج سپیس کے ساتھ گریڈنگ لائنوں سے برانڈنگ مراکز تک دینا ہے ۔ ایک وقف شدہ بیک اینڈ مارکیٹ انٹلی جنس سیل کو فعال بنایا جائے گا تاکہ کسانوں کوبر وقت میں مارکیٹنگ کے فیصلے میں مدد فراہم کی جا سکے۔
۵۔ 750 کروڑ (15 برس) کی ممکنہ سیکٹورل پیداوار کے ساتھ 250 ہیکٹر سے زیادہ اراضی پر ایم اے پیز کی کاشت سے ادویات اور آروما پودوں کے شعبے میں ایک نئی صبح آئے گی۔
۶۔ 475 کروڑ فی برس ویلیو ایڈیڈضمنی مصنوعات سے شہد کی پیداوار میں تین گنا اِضافہ 2,200 میٹرک ٹن سے 6,610 میٹرک ٹن تک کیا جائے گا۔ مکھیوں کی تعداد میں اضافے سے کراس پولی نیشن پر انحصار کرنے والی فصلوں پر سپن آف کا اثرہوگا۔
۷۔ ریشم کے کیڑے کے بیج اور ککون کی پیداوار کو دوگنا کرنا اور اعلیٰ معیار کے بائیوولٹائن ریشم کے پروڈیوسر کے طور پرجموں و کشمیر کی شان کو دوبارہ حاصل کرناہے ۔ 10 لاکھ شہتوت کے درخت لگانا اور جدید ترین خودکار ریلنگ کی سہولت کی تخلیق کرنا ہے۔
۸۔ کنڈی اوربارانی پٹی میں 14,000 ہیکٹر رقبے پر موسمیاتی باجرا کی فصل اور غذائی اناج کی کاشت پر توجہ دیں۔ باجرے کی فی ہیکٹر پیداوار کو دوگنا کرنا اور 60 باجرے کی پروسسنگ یونٹس کا قیام کرنا ہے۔
۹۔ فارم پاور میں موجودہ 1.74 کے ڈبلیو / ایچ اے /سے 2.5 کے وی/ ایچ اے تک اضافہ کرنا ہے۔ 283 کسٹم ہائرنگ سینٹراور 142 اے آئی اور پریزین فارمنگ سینٹروں کا قیام کرنا ہے۔
۰۱۔ مشروم کاشت میں اضافے سے زرعی آمدنی میں تنوع، مشروم کی پیداوار 2100 میٹرک ٹن سے 7800 میٹرک تک چار گنااور 4 مشروم کیننگ اور پکلنگ یونٹ کے قیام سے ویلیو ایڈیشن کرنا ہے۔
۱۱۔ تیل کے بیجوں کی پیداوار کو دوگنا کرنا اور زیر کاشت رقبہ 1.4 لاکھ ہیکٹر سے بڑھا کر 2.1 لاکھ ہیکٹر کرناہے اور قیمت میں اضافے کے لیے ایک سو نئے تیل کے بیج نکالنے کے یونٹ قائم کئے جائیں گے۔ فی ہیکٹر پیداوار میں 800 سے 1200 کلو گرام تک اضافہ ہوگا۔
۲۱۔ جموں و کشمیر کے ہر بلاک میں 60 ہزار کسانوں کو متحرک کرکے 300 فارمراِنٹرسٹ گروپس(ایف آئی جی) پر مشتمل 300 ایف پی اوز کی تشکیل دینا ہے۔ اجتماعیت کے نتیجے میں کسانوں کو خالص منافع میں 10سے12 فیصد تک اِضافہ ہوگا۔
۳۱۔ خشک سالی اور بارش سے متاثرہ علاقوں میں 85,000 کسان کنبوں کو شامل کرکے مربوط کاشتکاری کے نظام، مربوط نامیاتی کاشتکاری کے نظام اور مربوط لائیو لی ہڈ کا نظام قائم کیا جائے گا۔ کسانوں کی آمدنی میںفی ہیکٹر آمدنی میں صد فیصد اِضافہ ہوا۔
۴۱۔ موجودہ 150 یونٹوں کو مضبوط بنانے اور نئی 54 نرسریوں اور 330 پیداواری یونٹوں کی تخلیق سے معتدل اور دیگر کٹے ہوئے پھولوں کی کاشت میں جموں و کشمیر کے زرعی موسمی تنوع کی کٹائی۔
۵۱۔ پھلوں کی معیشت میں 50فیصد 10,000 کروڑ فی سال سے 15,000 کروڑ فی سال تک اِضافہ ہوگا۔ 7,500 ہیکٹر اضافی رقبہ اعلیٰ کثافت پھلوں کی کاشت کے تحت لایا جائے گا، موجودہ باغات میں پیداواری صلاحیت میں 200 فیصد اضافہ کے ساتھ 11 ملین نئے پلانٹ میٹریل تیار کئے جائیں گے۔
۶۱۔ 17 اَضلاع میں 20 لاکھ میٹرک پیداوار کو سنبھالنے والے سات پروڈکٹ کلسٹروں کو متحرک کیا جائے گا۔ 50 کروڑ روپے کی گرانٹ سے پانچ میگا کلسٹر قائم کئے جائیں گے۔ (دودھ، اخروٹ، گوشت اور پولٹری، سبزیاں اور باسمتی) کے ساتھ ایک مڈی کلسٹر (چیری) 25 کروڑ روپے کی گرانٹ سے اور ایک منی کلسٹر (ٹراو¿ٹ) 12.5 کروڑ روپے کی گرانٹ کے ساتھ اور 1450 کروڑ فی سال سے زیادہ آمدنی ہوگی۔
۷۱۔ دودھ کی پیداوار میں 75 فیصد اِضافہ ہو گا اور پروسسنگ چین میں داخل ہونے والا دودھ تین گنا ہو جائے گا۔ افزائش کا احاطہ 30 فیصدسے 70 فیصداورشرح پیدائش میں 10 فیصداضافہ ہوا۔ 500 گاو¿ں کی سطح پر دودھ جمع کرنے والے یونٹوں اور 50 بلک دودھ چلروں کا قیام۔ گاو¿ں کی سطح پر روایتی مصنوعات میں 110 لاکھ لیٹر دودھ کا ویلیو ایڈیشن۔ فی جانور دودھ کی پیداواری صلاحیت 2,400 لیٹر پی اے سے بڑھ کر 4,300 لیٹر پی اے ہو گئی۔
۸۱۔ دیرپا اون اور پیلٹ ویلیو چینوں سے گوشت میں خود انحصاری حاصل کی جائے گی۔ اس شعبے میں جینیاتی بہتری کو متاثر کرنے کے لئے بھیڑوں کی اعلیٰ مٹنی نسل کے 2700 سروں کی درآمد شروع کی جائے گی۔ جینیاتی بہتری اور افقی ترقی کو تیز کرنے کے لئے اِی ٹی ٹی اور اے آئی پروگراموںکی عمل آوری۔ روایتی بھیڑوں اور بکریوں کے کاشتکاروں کی روزی روٹی کو مزید محفوظ بنانے کے لئے اون اور پیلٹ سے منافع میں مجموعی طور پر 300 فیصد اضافہ۔
۹۱۔ مرغی کے گوشت اور انڈے کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کی جائے گی۔ پرائیویٹ سیکٹر میں 300 فیڈ پروڈکشن یونٹوں، 125 انٹگر یٹیڈ ہیچریاں اور 200 بڑے لیئر فارموں کو ترغیب دی جائے گی۔بیک یارڈ سیکٹرسے سالانہ 60 کروڑ انڈے اور 6,500 میٹرک ٹن مفت رینج کے گوشت کے لئے دستیاب ہوں گے۔ 1,273 کروڑ روپے فی سال کیپٹل فلائٹ کو روکیں۔
۰۲۔ جدید کاری اور نئی ہیچریوں کے قیام سے یورپ سے درآمد کئے گئے تازہ جرم پلازم کو متعارف کرا کر ٹراو¿ٹ اور کارپ کی پیداوار کو دوگنا کیا جائے گا۔ ریس ویز، آر اے ایس اور بائیو فلوک کے قیام سے پانی کے انتظام اور پرورش میں جدید ٹیکنالوجی کی عمل آوری اور تیرہ فش فیڈ ملوں کا قیام، چار کولڈ سٹوریج کم آئس پروڈکشن یونٹوں اور چار کوالٹی کم ڈیزیز کنٹرول لیبارٹریوںکا قیام۔
۱۲۔ کسانوں کے ڈیمو پلاٹس (4,100 ہیکٹر فی سال پر)، ہی۔سائلیج یونٹس (300)، چارے کے ڈیپو (25) اور ہائیڈروپونک یونٹوں (15,000 میٹرک ٹن سبز چارے کی پیداوار کے ساتھ 500 یونٹ) کے قیام سے جموں و کشمیر کے چارے کے بڑے خسارے کو 80 فیصد تک کم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ باغات، جنگلات کی بندش اور الپائن/سب الپائن گھاس کے میدانوں سے 20 لاکھ میٹرک ٹن چارے کی پیداوار شروع کی جائے گی۔
۲۲۔ زمینی خدمات کی توسیع اور لیب کو فروغ دینے کے لئے 2,000 کسان خدمت سینٹروں شراکتی منصوبہ بندی اورمرکوزیت فیصلہ سازی کے لئے قائم کئے جائیں گے تاکہ پنچایت کی سطح پر منافع بخش زراعت کو فروغ دیا جا سکے۔ کسان خدمت سینٹروں تکنیکی معاونت کے لئے کے وی کے، لائن ڈیپارٹمنٹوں اور یونیورسٹیوں کے ساتھ مضبوط روابط کو یقینی بنائیں گے جس کے نتیجے میں پورے علاقے کے لئے مخصوص زرعی منصوبے اور ماڈلوں، کسانوں کی دہلیز تک خدمات کی فراہمی اور سکیموں کے اثرات کا تجزیہ کیا جائے گا۔
۳۲۔ زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کو درپیش بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کے علاوہ یہ منصوبے نامیاتی باغات کے لئے معیارات اور سہولیات کے قیام، خطے کے لئے مخصوص فارم مشینری کی ترقی، سینسر پر مبنی سمارٹ فارمنگ ماڈلوں کا مظاہرہ، ایک جی آئی ایس تیار کرنے اور مٹی اور زمین کے مو¿ثر استعمال کے لئے مٹی کی جانچ پر مبنی آن لائن ذخیرہ، بائیو پیسٹیسائیڈز اور جدید سپرنگ ٹیکنالوجیوں کی ترقی سے کیڑے مار ادویات کے استعمال کو کم سے کم کرنے کے اور تکنیکی بیک سٹاپنگ پروگرام کے ذریعے ایگری ٹیکنوکریٹس کی اگلی نسل کے لئے معاونت کرنا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ”مجھے یقین ہے کہ مستقبل کا جموں و کشمیر اپنے زرعی طریقوں اور خوشحال کسان طبقے کے لئے پورے ملک میں ایک رول ماڈل ثابت ہوگا۔“
سکیم دوم ۔اسپریشنل پنچایت ترقیاتی پروگرام
جموں و کشمیریوٹی میں ” اسپریشنل پنچایت ترقیاتی پروگرام “شروع کر رہا ہے اور ان کی مجموعی ترقی کے لئے انتہائی پسماندہ 285 پنچایتوں (فی بلاک میں ایک پنچایت) کا انتخاب کر رہا ہے۔
دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگی سے متعلق سماجی و اِقتصادی اشاریوں پر جموں و کشمیر یوٹی کی مختلف پنچایتوں کی درجہ بندی کرنے کے لئے پنچایت ترقیاتی اِنڈکس کی تیاری کے لئے کلیدی پیرامیٹروںکی ایک صف کی پہلے ہی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ یہ مشق جموں و کشمیر یوٹی میں عملانے والے اسپریشنل بلاک ترقیاتی پروگرام کی مشابہت پر کی جائے گی۔
9 شعبوں میں مجموعی طور پر 100 قابل پیمائش اشارے کی نشاندہی کی گئی ہے، یعنی زراعت اور اس سے منسلک سرگرمیاں (6 اِشارے)، صحت اور غذائیت (11)، تعلیم (13)، دیہی ترقی اور صفائی ستھرائی (7)، فائدہ اٹھانے والے پر مبنی سکیمیں (4)، سکل ڈیولپمنٹ (4)، بنیادی ڈھانچے (17)، ماحولیات (5) اور گڈ گورننس (33)، جو موجودہ صورتحال اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی پیش رفت کی بصیرت فراہم کرے گی۔
اِن شعبوں کی اہمیت کی بنیاد پر دیہی آبادی کی زندگی میں مطابقت کے مطابق ہر شعبے اور ذیلی اشارے کو وزن تفویض کیا جائے گا۔
ان اسپریشنل پنچایتوں کو مختلف جاری ضلع اوریوٹی سکیموں اور مرکزی معاونت والی سکیموں و پروگراموں کے ملاپ سے تیار کیا جائے گا۔سکیم کے تحت منتخب پنچایتوںکو اس کی مزید ترقی کے لئے درج ذیل پیرامیٹروںجیسے سوئیل ہیلتھ کارڈوں، لینڈ پاس بک، کسان کریڈٹ کارڈ، اہل مزدوروں کو جاری کردہ شرم کارڈ، صد فیصد ادارہ جاتی پیدائش، صد فیصد میںاہداف حاصل کرنے کے بعد 10 لاکھ روپے کی اضافی مالی امداد فراہم کئے جائیں گے ۔ 9سے11 ماہ کی عمر کے بچوں کی ویکسی نیشن،،سکول سے باہر بچوں کا صفر فیصد، ٹھوس فضلہ کو صد فیصد جمع کرنا اور ٹریٹ کرنا، منریگا کارڈ کے ساتھ آدھار سیڈنگ، پی ایم جے اے وائی ۔ صحت کے تحت گولڈن کارڈ جاری کرنا۔
تقریباً 285 انتہائی پسماندہ پنچایتوں کا انتخاب جموں و کشمیر یوٹی کی 4,291 پنچایتوں (فی بلاک میں ایک پنچایت) سے کیا جائے گا، متعلقہ بلاک میں پنچایت ترقیاتی اشاریہ میں منتخب 100 پیرامیٹروں اور اِنڈیکیٹروں پر حاصل کردہ کم از کم مجموعی سکور کی بنیاد پر۔ ڈیٹا کا تجزیہ پی ڈی اینڈ ایم ڈی میں کیا جائے گا اور بلاک میں سب سے پسماندہ پنچایت کی نشاندہی کی جائے گی جس کی تفصیلات ان کی تصدیق کے لئے تمام متعلقہ ضلع ترقیاتی کمشنروں کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔
اسپریشنل پنچایت ترقیاتی پروگرام (اے پی ڈی پی) ڈیش بورڈ تمام پنچایتوں کا ڈیٹا منتخب اشارے اورپیرامیٹر پر اپ لوڈ کرنے کے لئے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ سے تیار کیا جائے گا۔ اس کے بعد اے پی ڈی پی ڈیش بورڈ کا استعمال کلیدی کارکردگی کے اشارے پر ان اسپریشنل پنچایتوں کی پیش رفت کی نگرانی کے لئے کیا جائے گا۔
اسپریشنل پنچایت ترقیاتی پروگرام کو ضلع ترقیاتی کمشنر کی مجموعی نگرانی میںعملایا جائے گا۔ پروگرام کو آسانی سے عملانے کے لئے ڈی ڈی سی کی طرف سے دیہی ترقی محکمے سے ضلعی سطح پر ایک نوڈل افسر نامزد کیا جائے گا۔
پنچایت ڈیولپمنٹ اِنڈکس کو ایسے بہترین طریقوں کو تیار کرنے اوراپنانے کے لئے متعارف کیا جائے گا جو پنچایتوں کے سماجی اِقتصادی موضوعات میں بہتری لاتے ہیں۔ شناخت شدہ پنچایتوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ وہ شامل ترقیاتی سکیموں کو مکمل کریں اور ماڈل پنچایتوں کے طور پر کام کریں۔
مزید برآں، غریبوں کی ترقی کے لئے دستیاب مختلف سکیموں تک ان پنچایتوں کے لوگوں کی رسائی کو بہترکیا جائے گا جس سے تعلیمی سطح، صحت اور بہبود اور ان کے حالات زندگی میں مجموعی طور پر بہتری آئے گی۔ یہ ان علاقوں کی جامع ترقی کی طرف ایک پیش قدمی ہو گی جس سے ہرفرد کو فائدہ ہو گا۔
سکیم سوم : اسپریشنل قصبوں میں ترقیاتی پروگرام
جموںوکشمیر بلدیات میں اِصلاحات کی ترغیب دینے کے لئے اسپریشنل ٹاﺅنز ترقیاتی پروگرام ، اَربن ریفارم انسینٹیو فنڈ ( یوآر آئی ایف ) اور مختلف میونسپلٹیوںکی درجہ بندی کے لئے اسسمنٹ فریم ورک کا آغاز کررہا ہے۔
جموںوکشمیر میونسپل ڈیولپمنٹ اِنڈکس۔2022 ایک ایسا ٹول ہے جس کے تحت جموں وکشمیر یوٹی میں شہری مقامی اداروں کی ترقی کے معیاری ترقیاتی معیارات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جبکہ جے اینڈ کے ایم ڈی آئی شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لئے ایک رہنما کے طور پر کام کرے گا، وسیع تر ترقیاتی نتائج حاصل کرنے کے لئے عمل کو متحرک کرے گا، بشمول دیرپا ترقی کے اہداف، میونسپل اداروں سے حاصل کردہ نتائج کا جائزہ اور موازنہ، شہریوں کو مقامی اداروں کے کام کاج کے بارے میں بصیرت فراہم کرے گا اورشراکت داروں کے درمیان مکالمہ قائم کریں، یو آر آئی ایف میونسپلٹیوں کو ان کے اسپریشنل ٹاﺅن بننے کے سفر میں اصلاحات کرنے کے لئے ضروری مالی مراعات فراہم کرے گا۔
چوں کہ 74ویں ترمیمی ایکٹ نے 1993 میں اربن لوکل باڈیز کو گورننس کے تیسرے درجے کے طور پر آئینی تسلیم کیا تھا، میونسپلٹیز شہری حکمرانی کے لئے اہم بن گئی ہیں۔ اس لئے ظاہر ہے کہ شہروں کی ترقی اور حکمرانی کا تعین میونسپلٹیوں کے کام کاج سے ہوتا ہے۔ وہ کلیدی ایجنٹ ہیں جو شہر کو ” سمارٹ “اور’دیرپا“بنانے کے لئے اہل فراہم کرتے ہیں۔
اسسمنٹ فریم ورک 7 عمودی اورستونوں کے ایک سیٹ میں میونسپلٹیوں کی سیکٹورل کارکردگی کا جائزہ لیتا ہے یعنی معیار زندگی اور خدمات؛ اقتصادی صلاحیت؛ ٹیکنالوجی؛ شہری منصوبہ بندی، گورننس،دیرپا اور موسمیاتی اور شہریوں کا ادراک جس میں 37 شعبے اور 138 اشارے شامل ہیں۔ میونسپل ڈیولپمنٹ انڈکس شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لئے ایک رہنما کے طور پر کام کرے گا، دیرپا ترقیاتی اہداف سمیت وسیع تر ترقیاتی نتائج حاصل کرنے کے لئے کارروائی کو متحرک کرے گا، میونسپل اداروں کے حاصل کردہ نتائج کا جائزہ اور موازنہ کرے گا، شہریوں کو بلدیاتی اداروں کے کام کے بارے میں بصیرت فراہم کرے گا اور ان کا احتساب کریں۔
ان میونسپلٹیوں کی کارکردگی کی بنیاد پرجے اینڈ کے ایم ڈی آئی ۔2022 کے تحت مقرر کردہ معیارات کے مطابق جبکہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی میونسپلٹیوں کی حوصلہ افزائی اور ترغیب دی جائے گی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری اور عزم ہے کہ عوام کی خواہشات کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔

Comments are closed.