رفاقت علی: کانگڑیاں بیچ کر گھر کا مالی بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کرنے والا پانچویں جماعت کا طالب علم
سری نگر،29 اکتوبر
گھر میں سختی ہے، تھوڑی غریبی ہے، باپ بیمار تھے جو پانچ برس قبل انتقال کر گیا، اس کی دوائی کے لئے پیسے نہیں ہوتے تھے۔یہ باتیں ایک کمسن مگر حوصلہ مند دس سالہ بچے کی ہیں جو پانچویں میں زیر تعلیم ہونے کے علاوہ اسکول سے چھٹی کے بعد یہاں حول میں کانگڑیاں بیچ کر اپنے گھر کے بھاری بھر کم معاشی بوجھ کو ہلکا کرنے کی جدو جہد کر رہا ہے۔رفاقت علی نامی اس معصوم لڑکے کے چہرے پر جہاں یتیمی کے ا?ثار نمایاں ہیں وہیں اس کی دل کو چیرنے والی باتوں سے اس کی بے بسی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔موصوف لڑکے کا کانگڑیاں بیچنے اور میڈیا کے ساتھ بات کرنے کا ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہو رہا ہے اور کمنٹس میں لوگ ان کو مدد کرنے کے لئے آگے آنے کی حامی بھر رہے ہیں۔بادام واری حول سے تعلق رہنے والا رفاقت علی پانچ برس کا ہی تھا جب اس کا والد ایک مہلک بیماری میں مبتلا ہو کر انتقال کر جاتا ہے جس سے گھر کے حالات بد سے بد تر ہوجاتے ہیں۔رفاقت کے گھر میں والدہ کے علاوہ دو بہنیں اور ایک بھائی بھی ہے لیکن وہ سب اس قدر چھوٹے ہیں کہ گھر کے بھاری مالی بوجھ کو اپنے نازک کندھوں پر اٹھانے کو برداشت کرنے کے اہل نہیں ہیں۔رفاقت کو ایک ویڈیو میں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: ’گھر میں سختی ہے، تھوڑی غریبی ہے، باپ بیمار تھا اس کی دوائی کے لئے پیسے نہیں تھے‘۔ان کا کہنا تھا: ’میرا بھائی ایک شٹرنگ والے کے ساتھ کام کر رہا تھا لیکن اس کا کام ٹھپ ہوگیا ہے‘۔رفاقت نے کہا کہ میں اب پچھلے ڈیڑھ ماہ سے کانگڑیاں بیچ کر کچھ کمانے کی کوشش کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا: ’لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک کانگڑی بھی بک نہیں جاتی ہے گذارش کی اگر ہوسکے تو ہمارے مدد کریں‘۔ رفاقت علی کی بہن کا کہنا ہے: ’ہمارے والد مہلک بیماری میں مبتلا تھے، دوائی پر کافی خرچہ آتا تھا، ہم نے ان کو شیر کشمیر میڈیکل انسٹی چیوٹ صورہ میں داخل کریا وہاں ان کے علاج پر کافی کرچہ آتا تھا‘۔انہوں نے کہا کہ ہم وہ خرچہ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے اگر ہم ان کا بروقت علاج کراتے شاید وہ بچ جاتے۔ان کا کہنا ہے: ’میں نے دسویں جماعت کے بعد پڑھائی چھوڑ دی کیونکہ گھریلو حالات ہی ایسے ہیں‘۔
Comments are closed.