ما بعد برفباری ،د ن میں کھلی دھوپ نکلنے اور رات کے دوران مطلع صاف رہنے کا شاخسانہ

وادی ، جموں اور لداخ خطے میں شدید سردی کی لہر جاری ، آنے والے دنوں میں مزید سردی کا امکان

سرینگر میں شبانہ درجہ حرارت منفی0.4اور شہر آفا ق گلمرگ میں منفی10ڈگری عبور کر گیا

سرینگر/08جنوری: بھاری برفباری کے بعد د ن میں کھلی دھوپ نکلنے اور رات کے دوران مطلع صاف رہنے کے نتیجے میں وادی کشمیر میں شدید سردی کی لہر جاری ہے۔ اسی دوران شہر آفاق گلمرگ میں رات کا درجہ حرارت منفی10ڈگری عبور کر گیا ۔ ادھر محکمہ موسمیات نے اگلے 24گھنٹوں کے دوران موسم میں کوئی تبدیلی نہ آنے کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے آئندہ تین دنوں تک موسم خشک رہنے کی پیشگوئی کی ہے ۔ادھر جموں میں بھی شدید سردی کی لہر جاری ہے۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر اور صوبائی علاقے لہہہ اور کرگل میں چلہ کلان سے قبل ہی سردی کی شدید لہر نے پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور یخ بستہ ہوائوں کی وجہ سے شدید سردی کی لہر جاری ہے ۔ محکمہ موسمیات کے حکام نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ رات کے دوران مطلع صاف رہنے اور دن میں کھلی دھوپ نکلنے کے باعث وادی کشمیر میں سردی کی لہر جاری ہے جبکہ آنے والوں دنوں میں شبانہ سردیوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔ محکمہ کے مطابق درجہ حرارت میں کمی ہونے کے ساتھ ہی پوری وادی سخت ترین سردی کے لپیٹ میں آچکی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کے ساتھ ساتھ لداخ خطہ بھی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے ۔ترجمان کے مطابق جموں خطہ میں بھی درجہ حرارت میں کافی گرائوٹ آئی ہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق جموں کشمیر اور لداخ میں سردی کی لہر میں مزید اضافہ ہوا ہے اور سرینگر میں گذشتہ رات کے دوران کم سے کم درجہ حرارت منفی0.4ڈگری سیلشیس جبکہ شہر آٖفاق گلمرگ میں منفی 10ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات نے جمعہ کو بتایا کہ اگلے ایک ہفتے تک رات کے درجہ حرارت میں مزید کمی متوقع ہے۔ادھر محکمہ موسمیات نے وادی کشمیر میں موسم میں کوئی تبدیلی نہ آنے کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے اگلے 24گھنٹوں میں موسم خشک رہنے کی پیشن گوئی ہے ۔ ادھر شہر سرینگر سمیت وادی بھر میں سخت ترین ٹھنڈ جاری رہی اور دن کے وقت بھی لوگوں کو آنے جانے میں سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ رات کے وقت سردی کی شدت میں اضافہ ہونے کے بعد لوگ اضافی بسترے ، کمبل ، گرم ملبوسات اور روم ہیٹر و واٹر بوتل جیسی چیزیں خریدنے پر مجبور ہورہے ہیں اور متعلقہ دکاندار لوگوں کی مجبوری یا ضرورت کا خوب فائدہ اٹھارہے ہیں اور انہوں نے یکایک ان سبھی چیزوں کی قیمتوں میں من مانے طور اضافہ کر دیا ہے ۔

Comments are closed.