ہوکر سر لاوے پورہ میں مارے گئے نوجوانوں کے اہلخانہ کا پولیس اور مواصلاتی کمپنیوںسے رجوع
پولیس اور فوج کے دعوئوںکی اصلیت جاننے کیلئے موبائل لوکیشن اوردیگر تفصیلات جاننے کی کوشش میں
ہمارے لخت جگر واپس نہیں آئیں گے لیکن ہمارا صرف اتنا مطالبہ ہے کہ ان کی میتیں ہمیں سونپ دی جائے
سرینگر/04جنوری:/ ہوکر سر لاوے پورہ میں مارے گئے شوپیاں اور پلوامہ کے تین نوجوانوں کے اہلخانہ موصلاتی کمپنیوں اور پولیس سے ڈیجیٹل شہادتیں اوردیگر جانکاری حاصل کررہے ہیںانہوں نے کہا ہے کہ جیسا کہ پولیس نے دعویٰ کیاکہ وہ پہلے حیدر پورہ اور پھر جائے جھڑپ پرگئے تھے کی تصدیق کیلئے وہ موبائل کالنگ کی تفصیلات اور لوکیشن کی دیکھیں گے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ہوکر سے انکاونٹر میں مارے گئے تین مقامی نوجوانوں کے اہلخانہ نے پولیس کے ان دعوئوں کی اصلیت جاننے کی تلاش میں نکلے ہیں جن میں پولیس نے کہا تھا کہ یہ نوجوان پہلے حیدر پورہ اور پھر جائے جھڑپ پر پہنچتے تھے ۔ تینوں نوجوانوں کے گھر والوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے بچوں کو ’’فرضی جھڑپ‘‘ میں ماراگیا ہے اور انکا کسی عسکری تنظیم کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں تھا ۔ تین میں سے دو کا تعلق پولیس کنبوں سے ہے ۔ مارے گے ایک نوجوان اعجاز احمد کے والد پولیس میں بطور ہیڈ کانسٹیبل ہیں جبکہ دوسرے نوجوان زبیر احمدکا بھائی پولیس اہلکار کے بطور اپنے فرائض انجام دے رہا ہے ۔ مارے گئے ایک نوجوان کے برادر نے اس سلسلے میں بتایا ہے کہ وہ مواصلاتی کمپنیوں اور پولیس کی مدد لیں گے اور یہ پتہ لگائیں گے کہ مارے گئے نوجوانوں کے موبائل پر کس کس نے اور کب فون کیا ہے اور ان موبائلوںکی لوکیشن کیا رہی تھی ۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اس کا بھائی ’بے قصور‘ہے۔ انہوں نے کہا کہ اور بھی بہت سے سوالات کے جوابات ابھی باقی ہیں۔ ہمیں اس معاملے میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔ اگر پولیس خاطرخواہ ثبوتوں کے ساتھ یہ ثابت کردے گی کہ زبیر عسکریت پسندی میں ملوث تھا تو ہم بھی قبول کرلیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اب تک فراہم کردہ تفصیلات کی تصدیق کے لئے محکمہ ٹیلی مواصلات اور پولیس سے بھی رابطہ کریں گے۔ انکاؤنٹر میں مارے گئے ایک نوجوان کے والد محمد مقبول گنائی نے کہاکہ گاؤں کے کچھ لوگوں نے میرے بیٹے کو ڈھائی بجے گورنمنٹ ڈگری کالج پلوامہ کے نزدیک دیکھا تھا انہوں نے کہا کہ ہمارے ذہنوں میں بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ہم صرف ٹیلی کام آپریٹرز اور پولیس سے ڈیجیٹل شواہد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹیلی کام آپریٹر اور پولیس سے رجوع کریں گے تاکہ ان تفصیلات کی تصدیق کی جاسکے۔پولیس کے ساتھ بطور ہیڈ کانسٹیبل کام کرنے والے محمدمقبول گنائی نے کہا ہے کہ ان کا بیٹا واپس نہیں آئے گا اور اب کنبہ کے پاس صرف ایک مطالبہ ہے کہ اعجاز کی میت ان کے حوالے کی جائے۔
Comments are closed.