پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو جلد ہی واپس حاصل کیا جائے گا ، گپکار گینگ کو عوام نے مسترد کردیا / ترون چگھ

عوام تشد د کو بھول کر جموںکشمیر میں تعمیر و ترقی اور سیاحت کو بڑھائوا دینے پر توجہ مرکوز کریں

بی جے پی کشمیر کے عوام کی اپنی پارٹی ،جموں کشمیر میں بی جے پی کا ہی اگلا وزیر اعلیٰ ہوگا

سرینگر/27دسمبر : پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو جلد ہی واپس حاصل کیا جائے گا کا دعویٰ کرتے ہوئے بی جے پی کے جنرل سیکرٹری اور جموںکشمیر انچارج ترو ن چگھ نے عوام سے کہا ہے کہ وہ تشد د کو بھول کر جموںکشمیر میں تعمیر و ترقی اور سیاحت کو بڑھائوا دینے پر توجہ مرکوز کریں ۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ گپکار گینگ کو جموں کشمیر کے 18لاکھ ووٹروں نے مسترد کر دیا ۔ سی این آئی کے مطابق ٹائیگور ہال سرینگر میں ایک تقریب کے حاشیہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بی جے پی کے جنرل سیکرٹری ترون چگھ نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوںسے جموں کشمیر میںجنہوں نے حکومت کی ہے ان کو یہاںکے عوام نے اب مسترد کر دیا ہے ۔ اور لوگ اب ان کا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ جموں کشمیر میں تشدد کے ماحول کو بھول جائیں اور تعمیر و ترقی کے علاوہ سیاحتی سیکٹر کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات کے دوران 18لاکھ ووٹروں نے گپکار گینگ کو مسترد کرکے ان کے حق میں ووٹ نہیں دیا ۔ جبکہ پانچ سابق وزارء اعلیٰ کی سات رکنی جماعتوں کی کوئی اہمیت جموں کشمیر میں اب نہیںہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بات سوچ لینی چاہئے کہ کیونکہ لوگوں کی بھاری اکثریت نے مقامی سیاسی پارٹیوں کو مسترد کر دیا ہے ۔ کیوں کشمیر میں کنول کھل رہا ہے ۔ کیونکہ ڈی ڈی سی انتخابات کے دوران گپکار کے امید واروں کے حق میں یہاںکے لیڈران نے الیکشن مہم نہیں چلائی اور بعد میں انہوں نے یہ ڈرما کیا کہ انہیں گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیںد ی گئی ۔ اس سوال کے جواب میںکہ جموںکشمیر کے سینکڑوں افراد جیلوں میںنظر بند ہے چگھ نے کہا کہ پر کسی کو ملک کے آئین کی پاسداری کرنے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چلو ہم تشدد کو بھول جائے اور جموںکشمیر کی مجموعی تعمیر و ترقی کی جانب دھیان دیا جائے ۔ چگھ نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کشمیر کے عوام کی اپنی پارٹی ہے اور جلد ہی جموں کشمیر میں بی جے پی کا وزیر اعلیٰ ہوگا ، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو بھی جلد ہی واپس حاصل کیا جائے گا ۔

Comments are closed.