سخت سیکورٹی انتظامات کے بیچ ڈی ڈی سی و بلدیاتی انتخا بات کا آخری مرحلہ بھی اختتام پذیر

شدید ٹھنڈ کے بیچ کہیں پولنگ مراکز پر جم کر ووٹ پڑے اور کہیں کوئی ووٹر نظر نہیں آیا

آخری مرحلے کے انتخابات میں مجموعی طور پر 45فیصد پولنگ ریکارڈ، 22دسمبر کو ہوگا نتائج کا اعلان

سرینگر/19دسمبر /سی این آئی// شدید ترین ٹھنڈ اور سخت ترین سیکورٹی انتظامات کے بیچ جموںکشمیر میں ضلع ترقیاتی کونسل اور بلدیاتی وضمنی انتخابات کے آخری مرحلے کے تحت سنیچروارکو ووٹ ڈالیں گئے ۔ سنیچروار کی صبح سے ہی کہیںپولنگ مراکز پر لوگوں کی کافی بھیڑ دیکھنے کو ملی جنہوںنے اپنے ووٹ کا استعمال کیا ۔ مجموعی طور پر آخری مرحلے میں 45فیصد کے قریب ووٹ پڑے ۔ادھر حکام کے مطابق ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کے آٹھویں مرحلے میں سنیچروار کے دوپہر ایک بجے تک مجموعی طور پر 40.91فیصد ووٹنگ درج کی گئی جبکہ آٹھویں مرحلہ بھی پر امن طور پر اختتام پذیر ہوگیا۔ خیال رہے کہ آخری مرحلے کیلئے جموں و کشمیر میں سنیچروارکو 28 انتخابی حلقوں میں ضلع ترقیاتی کونسل کے انتخابات کیلئے پولنگ ہوئی۔ سی این آئی کے مطابق سخت ترین سیکورٹی انتظامات اور شدید ٹھنڈ کے چلتے ڈی ڈی سی انتخابات کیلئے جموں کشمیر میں سنیچروار کو آٹھویں مرحلے کے تحت ووٹ ڈالیں گے ۔جموں و کشمیر میں ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل (ڈی ڈی سی) اور پنچایتی و بلدیاتی ضمنی انتخابات کے آٹھویں اور آخری مرحلے کی پولنگ کا عمل صبح سات بجے سے شروع ہو کر دن کے دو بجے اختتام پذیر ہوگئی۔حکام کے مطابق جموں و کشمیر میں سنیچروارکو 28حلقوں میں ضلع ترقیاتی کونسل کے انتخابات کیلئے پولنگ ہوئی۔ یہ جاری انتخابی عمل کا آٹھواں اور آخری مرحلہ تھا۔آج صبح حسب سابق پولنگ سات بجے شروع ہوئی اس کا سلسلہ دوپہر دو بجے تک جاری رہا۔سرکاری ذرائع کے مطابق پولنگ کیلئے سخت انتظامات کئے گئے تھے اور یہ مرحلہ بھی پر امن طور پر اختتام پذیر ہوگیا۔مذکورہ ذرائع نے کہا کہ ان حلقوں میں کہیں جم کر تو کہیں وسطی درجے کی پولنگ ہوئی۔مراکز کے اندر اور آس پاس سکیورٹی کے سخت بندوبست کیے گئے تھے۔ وہیں متعلقہ پولنگ عملے کو بھی پولنگ مراکز کی طرف ضروری سازوسامان کے ساتھ پہلے ہی روانہ کیا گیا تھا۔بدھ کی صبح سے ہی پولنگ بوتھوںپر لوگوں کی بھیڑ دیکھنے کو ملی ، پولنگ مراکز پر رائے دہند گان کی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں ،جو شدید ٹھنڈ کے باوجود پولنگ مراکز پر رائے دہی کا استعمال کرنے کے لئے اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے دیکھے گئے ۔اننت ناگ ،پلوامہ ،شوپیان ،کولگام ،کپوارہ ،بارہمولہ ،بانڈی پورہ ،گاندر بل ،بڈگام ،کٹھوعہ ،ریاسی ،رام بن ،کٹھوعہ ،سانبا ، جموں ،راجوری اور پونچھ اضلاع میں رائے دہی کے دوران کافی گہماگہمی دیکھنے کو ملی ۔انتخابی عمل کے احسن انعقاد کے لئے سیکورٹی کڑے انتظامات کئے گئے جبکہ حساس علاقوں میں ڈرونز کے ذریعے بھی نگرانی کی گئی ۔اس کے علاوہ کووڈ ۔19کے پیش نظر رائے دہندگان کی پولنگ مراکز پر تھرمل جانچ بھی کی گئی جبکہ پولنگ عملے نے بھی وبا سے محفوظ رہنے کے لئے خاص فیس ماسک ،شیلڈ اور دیگر چیزوں کا استعمال کیا ۔ ادھر حکام کے مطابق جموں و کشمیر میں ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کے آخری مرحلے میں سنیچروار کو ان کے ایک بجے تک مجموعی طور پر 40.91فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ یہ ووٹنگ حسب سابق صبح سات بجے شروع ہوئی اور یہ دوپہر دو بجے تک جاری رہے گی۔الیکشن حکام کے مطابق پہلے چھ گھنٹوں کی پولنگ کے دوران کشمیر وادی کے ضلع پلوامہ میں پلوامہ میں 10.17فیصد، بارہمولہ 39.36فیصد ، کولگام 8.47فیصد ، شوپیاں 6.42فیصد ، اننت ناگ 7.58فیصد، بانڈی پورہ 49.07فیصد ، کپواڑہ میں 53.61 ووٹنگ ہوئی ہے۔جبکہ بڈگام میں 29.78فیصداور اسی طرح جموں ڈویڑن میں کشتواڑ میں 58.43فیصد ، ادھم پورمیں 44.48فیصد ، جموں 58.48فیصد ، کٹھوعہ 59.21فیصد ، رام بن میں 63.48فیصد ، ڈوڈہ میں 61.08فیصد۔ سانبہ میں 64.56فیصد، پونچھ میں70.09فیصد ، راجوری میں 68.57فیصد اور ریاسی میں 67.23میں ووٹنگ ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق کشمیر صوبے میں مجموعی طور پر 25.90 فیصد رائے شماری ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ جموں ڈویڑن میں 56.40 فیصد ہے۔ڈی ڈی سی انتخابات کے آٹھویں اور آخری مرحلے میں ، 28 ڈی ڈی سی حلقوں میں کشمیر صوبے سے 13 اور جموں صوبے سے 15 حلقوں میں ووٹنگ ہوئی ، جہاں بالترتیب 83 اور 85 امیدوار میدان میں ہیں۔ ادھر حکام کے مطابق جموں و کشمیر میں ہفتے کو ڈی ڈی سی انتخابات کے سبھی آٹھ مراحل اختتام پذیر ہوگئے۔ آٹھویں اور آخری مرحلے کے لئے 28 انتخابی حلقوں میں آج ووٹنگ ٹھیک دو بجے دن اختتام پذیر ہوئی۔ اس طرح یہ انتخابی عمل مکمل ہوگیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق سبھی آٹھ مراحل میں رائے دہندگان نے ووٹنگ عمل میں بھر پور حصہ لیا۔مذکورہ ذرائع نے مزید کہا کہ سبھی اْمیدواروں کی قسمت ووٹنگ مشینوں میں بند ہے اور اب 22دسمبر کو ووٹ شماری کے بعد نتائج سامنے آئیں گے۔ان انتخابات میں عوامی اتحاد گپکار اعلامیہ،بھارتیہ جنتا پارٹی اور اپنی پارٹی کے اْمیدواروں کے مابین سہ رخی مقابلہ تھا۔عوامی اتحاد میں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور پیپلزکانفرنس سمیت متعدد پارٹیاں شامل ہیں جو ملکر چنائو لڑ رہی تھیں۔

Comments are closed.