چلہ کلان سے دو دن قبل ہی شدید سردی کی لہر نے اہلیان وادی کو پریشانیوں کا سامنا
یخ بستہ ہوائوں کے باعث دن کے درجہ حرارت میں کوئی زور نہیں ، آئندہ کچھ دنوں تک موسم خشک رہنے کا امکان / محکمہ موسمیات
سرینگر میں شبانہ درجہ حرارت منفی 6.6اور دراس میں منفی 29ڈگری سلیشس ریکارڈ
سرینگر/19دسمبر : بادشاہ چلہ کلان سے قبل سے دو روز قبل ہی جموں، کشمیر اور لداخ کو شدید سردی کی لہر نے اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور امسال دہائیوں کی سردیوں نے پھر ریکارڈ قائم کیا ہے ۔اسی دوران جمعہ اور سنیچروار کو ایک مرتبہ پھر سرینگر میں سرد ترین ریکارڈ کیا گئی جس دوران شبانہ درجہ حرارات منفی 6.6ڈگری سلشس ریکارڈ کیا گیا جبکہ لداخ خطے کے دراس میں کم سے کم درجہ حرارت منفی29ریکارڈ کیا گیا ۔ ادھر محکمہ موسمیات نے آئندہ کچھ دنوں تک موسم خشک ہونے کی پیشگوئی کرتے ہوئے سردیوں میں مزید اضافہ کا امکابن ظاہر کیا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر اور صوبائی علاقے لہہہ اور کرگل میں سردی کی شدید لہر نے پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور یخ بستہ ہوائوں کی وجہ سے شدید سردی کی لہر جاری ہے ۔ محکمہ موسمیات کے حکام نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ شب سرینگر شہر میں سرد ترین رات رہی اور را ت کا درجہ حرارت منفی6.6ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ کے مطابق درجہ حرارت میں کمی ہونے کے ساتھ ہی پوری وادی سخت ترین سردی کے لپیٹ میں آچکی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کے ساتھ ساتھ لداخ خطہ بھی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سرینگر میں کم سے کم درجہ حرارت کا دس سال قبل منفی 7.7ریکارڈ کیا گیا تھا اور گذشتہ رات ریکارڈ ہونے والا درجہ حرارت اس کے بعد کا سب سے کم ہے۔محکمہ کے مطابق اس سے قبل 25دسمبر2018کو منفی 7.7ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا۔اسی طرح لداخ خطے کے دراس میں بھی درجہ حرارت بہت ہی حد تک نیچے آگیا ہے اور گذشتہ رات کے دوران وہاں پارہ منفی29ڈگری تک گر گیا۔وادی کے گلمرگ میں گذشتہ رات کے دوران منفی9.2ڈگری جبکہ پہلگام میں یہ منفی9.5ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔جموں شہر میں اس کے برعکس گذشتہ رات کا درجہ حرارت 3.3ریکارڈ کیا گیا۔شدید سردی کی وجہ سے شہر سرینگر اور دیگر علاقوں میں آبی ذخائر منجمد ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔یاد رہے کہ چالیس ایام پر مشتمل شدید سردی کا ’چلہ کلان‘ دسمبر21سے شروع ہورہے ہیں۔ ادھر محکمہ موسمیات نے وادی کشمیر میں آئندہ کچھ دنوں تک موسمی صورتحال میں تبدیلی نہ آنے کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ سردی کی لہر میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ ۔ ادھر شہر سرینگر سمیت وادی بھر میں سخت ترین ٹھنڈ جاری رہی اور دن کے وقت بھی لوگوں کو آنے جانے میں سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ رات کے وقت سردی کی شدت میں اضافہ ہونے کے بعد لوگ اضافی بسترے ، کمبل ، گرم ملبوسات اور روم ہیٹر و واٹر بوتل جیسی چیزیں خریدنے پر مجبور ہورہے ہیں اور متعلقہ دکاندار لوگوں کی مجبوری یا ضرورت کا خوب فائدہ اٹھارہے ہیں اور انہوں نے یکایک ان سبھی چیزوں کی قیمتوں میں من مانے طور اضافہ کر دیا ہے ۔
Comments are closed.