جسمانی طور نا خیز افراد کا عالمی دن ، ہینڈی کیپڈ ایسوسی ایشن جموں کشمیر نے بطور یوم سیاہ کے منایا
جائیز اور دیرینہ مطالبات منوانے کیلئے پریس کالونی سرینگر میں کیا زوردار احتجاج درج
سرکار نے مطالبات حل نہ کئے تو 25جنوری سے سیول سیکرٹریٹ جموں کے باہر بھوک ہڑتال شروع ہوگی / صدر
سرینگر/03دسمبر: جموں کشمیر ہینڈی کپیڈ ایسوسی ایشن نے جسمانی طور نا خیز افراد کے عالمی دن کو یوم سیاہ کے بطور منانے کے علاوہ مطالبات منوانے کیلئے ایک مرتبہ پھر پریس کالونی سرینگر میں پُر امن احتجاج درج کیا اور مرکزی و جموں کشمیر سرکار پر زور دیا ہے کہ ان کے جو بھی جائیز مطالبات کے ان کو فوری طورپر حل کیا جائے ۔ انہوں نے واضح کردیا ہے کہ مطالبات حل نہ ہونے کی صورت میں 25جنوری سے جموں سیکرٹریٹ کے باہر غیر معائنہ عرصہ کیلئے بھوک ہڑتال شروع کیا جائے گا ۔ سی این آئی کے مطابق جسمانی طور نا خیز افراد کے عالمی دن کو جموں کشمیر ہینڈی کیپڈ ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر یوم سیاہ کے بطور منایا ۔ اور مطالبات منوانے کے حق میںپریس کالونی سرینگر میں زور دار احتجاج بلند کر دیا ۔ جمعرات کی صبح جموں کشمیر ہینڈ ی کپیڈ ایسوسی ایشن کے بینر تلے درجنوں کی تعداد میںجسمانی طور نا خیز افراد پریس کالونی سرینگر میں جمع ہوئے اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کی ۔ اس موقعہ پر جسمانی طور نا خیز افراد کی انجمن جموں کشمیر ہینڈی کپیڈ ایسوسی ایشن کے صدر عبد الرشید بٹ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جسمانی طور نا خیز افراد کے کافی مطابات پڑے ہوئے جنہیں حل نہیں کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے مرکزی و ریاستی لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ڈسبلٹی ایکٹ -2016 کو جلداز جلد جموں وکشمیر میں لاگو کیا جائے اور باقی مسائل کو بھی حل کرنے کی طرف توجہ دے کیونکہ جموں کشمیر اب ایک مرکزی علاقہ بن چکا ہے۔ برسوں سے لگاتار حکومتیں جسمانی طور پر معذور افراد کے لئے کسی بھی فلاحی اقدامات کو نافذ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ صدر عبدالرشید بٹ نے یہ بھی کہاں ہے کہ جموں وکشمیر کے معذور افراد کے ساتھ تمام حکومت کی طرف سے برا سلوک کیا گیا ہے خواہ وہ مرکزی حکومت ہو یا ریاستی حکومت ہو اور ریاستی حکومت نے ہمیں ہمیشہ یہ یقین دہانی کراتے رہی کہ ہم معذور افراد کو وہ تمام فوائد فراہم کریں گے جو ان کو قانون اور آئین نے دیا ہے لیکن میٹنگ ختم ہونے کے بعد معذور افراد کے لئے کچھ بھی نہیں کیا جا رہا ہے اور نہ ہی زمینی سطح پر کچھ نظر آتا ہے۔انہوں کہا کہ شائد کہ ہم اب ہم مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے درخواست کی تھی کہ ہمارے مطالبات کو حل یا جائے کیونکہ ہمیں اس کرونا وائرس اور لاک ڈاون میں بھی بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے ہے۔تاہم آج تک ایسا نہیںکیا گیا ہے جس کے باعث وہ سڑکوں پر پھر نکالنے کیلئے مجبور ہو گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم احتجاج کرنے کا کوئی شوق نہیںہے تاہم ہماری بات کوئی سنتا نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے مطالبات کو حل کرانے کیلئے کوئی دلچسپی دی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ احتجاج کے سوا اب ہمیں کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ یہاں کی سرکار ہماری طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی ہیں اور ہم کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سرکار کو واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ 25جنوری سے پہلے پہلے ہمارے مطالبات و مسائل کو حل نہیںکیا گیا تو 25جنوری سے سیول سیکریٹر یٹ جموں کے باہر غیر معاینہ عرصہ کیلئے بھوک ہڑتال شروع کی جائے گی ۔
Comments are closed.