رواں ماہ کے 23دنوں میں جموں کشمیر میں مختلف تشدد آمیز وارداتوں میں 29جانیں تلف

مہلوکین میں12جنگجو، 6عام شہری، 2فوجی اہلکار ،2سرحدی حفاظتی فورسز اور ایک پولیس اہلکار شامل

سرینگر/23نومبر: جموں کشمیر میں مختلف تشددآمیز واقعات کے دوران رواں ماہ کے 23دنوں میں 29جانیں ضائع ہوئی ہیں ۔ جن میں فوجی اہلکار، پولیس اہلکار ، عام شہری بھی شامل ہیں۔جبکہ اس مدت میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں ۔کرنت نیوز آف انڈیا کے مطابق رواں ماہ کے 23دنوں کے دوران جموں کشمیر کے مختلف علاقوں میں تشدد آمیز واقعات میں 29انسانی جانیں تلف ہوئیں ہیں ۔ سرکار ی ذرائع کے مطابق مختلف جگہوں پر جنگجوئوں اور فوج و فورسز کے مابین ہوئی جھڑپوں میں اب تک 12جنگجو، 2فوجی اہلکار، سرحدی حفاظتی فورسز سے وابستہ 2اہلکارایک پولیس اہلکار کے علاوہ 6عام شہری ہلاک ہوئے ہیں ۔ ذرائع کی جانب سے موصولہ اعدادوشمار کے مطابق اس مدت کے دوران وادی میںعسکریت پسندوں اور فورسز کے مابین 6تصادم آرائیاں ہوئیںجن میں 12عسکریت پسند مارے گئے جن میں حزب المجاہدین کا ایک اعلیٰ کمانڈر ڈاکٹر سیف اللہ جو کہ سرینگر کے رنگریٹ علاقے میں ہوئی جھڑپ میں جاں بحق ہوا تھاجبکہ فوج اور جنگجوئوں کے مابین 2جھڑپوں میں جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ۔ اس اثناء میں میج پانپور میں جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان ہوئی تصادم آرائی میں ایک عام شہری عابد احمد ازجان ہوا تھا ۔ جبکہ نامعلوم بندوق برداروں نے ترال کے ایک شہری محمد ایوب کو گولی مار کر ہلاک کرڈالاجبکہ ایک پولیس اہلکار اشفاق احمد بڈگام کے میوہ باغات میں مردہ پایا گیا تھا جس کے بدن پر تشدد آمیز نشانات موجود تھے ۔ رواں ماہ میںہی مژھل انکاونٹر میں تین فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ نوگام سیکٹر کپوارہ میں ہندوپاک شلنگ میں ایک بی ایس ایف اہلکار ہلاک ہوا تھا ۔ جبکہ چار فوجی اہلکار اور 4 سیولین شمالی کشمیر میں ہندوپاک افواج کے مابین گولہ باری میں مارے گئے ۔ جبکہ لام سیکٹر میں بھی ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوا تھا ۔ اس مدت میں درجنوں دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ۔

Comments are closed.