موسم سرما اور دربار مو کی جموں منتقلی کے بعد وادی میں مہنگائی عروج پر ،،لوگ پریشان حال
ذخیروں اندوزوں کے وارے نیارے، ضروری اشیاء اور کوئلہ کی قیمتوں میں بھی کئی گنا اضافہ
سرینگر/20نومبر: موسم سرما کے آمد سے جہاں ذخیرہ اندوزوں کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں وہیں عوام کو گو نا گوں مشکلات کاسامنا کر نا پڑرہا ہے ْ۔دوکانداروں نے ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا ہے یہاں تک کہ 400سے500روپے میں فروخت ہونے والی کوئیلہ بوری 700سے 800روپے تک فروخت ہونے لگی ہے ۔سی این آئی کو ملی تفصیلات کے مطابق وادی کشمیر میں موسم سرما کے آمد اور دربار مو جمو ں منتقل ہونے کے ساتھ ہی جہاں سردیوں میں اضافہ ہو گیا ہے وہیں ایک غریب کیلئے اپنا گھر چلانا دشوار ہو گیا ہے اور جہاں ایک طرف مختلف مسائل نے متوسط اور غریب لوگوں کو پہلے ہی کئی الجھنوں میں دھکیل دیا ہے وہیں ان تازہ بارشوں سے مزید اضافہ ہو گیا ۔نمائندے کے مطابق کویلہ ،بالن اور کانگڑیوں کی قیمتوں میں ہو شربا اضافہ کر دیا گیا ہے ۔جانکار حلقوں کے مطابق مقامی طور تیار کردہ کوئلہ کی قیمتوں میں 10سے 30فیصد کا اضافہ ہی نہیں بلکہ 100فیصد کا اضافہ کر دیا گیا ہے ۔نمائندے کے مطابق لوگوں کو کہنا ہے کہ جوکوئلہ کی بوری0 50سے 500میں فروخت ہو جاتی تھی اس کی قیمت اب 800سے 750تک کر دی گئی ہے جبکہ دوسری طرف تاجر کوئیلوں میں ریت ،می اور باجر کی لاوٹ بھی کر رے ہیں جبکہ بالن کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا گیا ہے ۔نمائندے کے مطابق کا نگڑوں کے دام بھی موسم کا حال دیکھتے ہیں مقرر کیا جاتا ہیاور 50سے 80روپے میں فروخت ہونے والی کانگڑی کے دام 100سے 150روپے کر دئے گئے ہیں ۔نمائندے کے ساتھ بات کرتے ہوئے ایک شہری نے بتایا کہ قیمتوں کو لیکر اگر انکو زیادہ شکایت نہیںم ہے لیکن بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کو قابو میں کرنے کے لئے متعلقہ محکمہ اور ریاستی حکومت بُری طرح ناکام ہو چکی ہے ۔
Comments are closed.