کووڈ 19کے سلسلے میں سرکاری افسران اور طبی شعبہ سے وابستہ افراد

شہری اور دیہی علاقوں میں دوروں کے دوران عام لوگوں پر انگریزی جھاڑتے ہیں

سرینگر/20نومبر: کووڈ 19کے سلسلے میں سرکاری افسران اور طبی شعبہ سے وابستہ عملہ جب شہری اور دیہی علاقوں کا دورہ کرتے ہیں اور لوگوں سے کوروناوائرس سے بچائوکی تدابیر اور دیگر معاملات پر بات کرتے ہیں تووہ مقامی زبان کو چھوڑ کر اکثر فرنگی زبان ’’انگریزی‘‘میں بات کرتے دکھائی دیتے ہیں جس کے باعث عام لوگوںمدعا و مقصد کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کووڈ 19کے سلسلے میں عام لوگوں تک جانکاری پہنچانے اور اس سے جڑے دیگر معاملات کے سلسلے میں شعبہ صحت سے وابستہ عملہ اور دیگر سرکاری اداروں کے افسران جب دیہی اور شہری علاقوں میں لوگوں کے ساتھ بات کرنے کیلئے جاتے ہیں تو وہ ان سے ’’فرنگی زبان‘‘یعنی انگریزی میں بات کرتے ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں تک صحیح بات پہنچانے کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اکثر اوقات میں دیکھا گیا ہے کہ سرکاری افسران ،ڈاکٹر اور دیگر اشخاص کوروناوائرس کے پھیلائو کے روکنے یا اس سے جڑے دیگر معاملات کے سلسلے میں عام لوگوں سے بات کرتے ہیں تو وہ مقامی زبان ’’کشمیری‘‘یا اردو کو چھوڑ کر انگریزی زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ عام لوگ انگریزی زبان سے ناواقف ہونے کے نتیجے میں وہ ڈاکٹروں اور دیگر افسران کی بات سمجھ نہیں پاتے۔کئی لوگوں نے اس سلسلے میں شکایت کی ہے کہ عام لوگوں تک بات پہنچانے کیلئے مقامی زبان کا استعمال ہی بہتر رہتا۔ لوگوں نے اس ضمن میں متعلقین سے اپیل کی ہے کہ وہ جب بھی عوامی دوروں پر رہیں تواْس وقت مقامی زبان سے ہی بات کریں تاکہ عام لوگ بات کو صحیح طور پر سمجھیں۔

Comments are closed.