کشمیر میں ایک ہزار سے زیادہ طبی مراکز قائم ، محکمہ صحت کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر

غیر میعاری ادویات اور طبی و نیم طبی عملہ کی کمی کی وجہ سے مریضوں کو بہتر علاج مئیسر نہیں

سرینگر/13نومبر: وادی میں 1646سے زائد طبی مراکزقائم ہونے کے باوجود ان میں طبی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ جبکہ مریضوں کو تفویض کی جارہی ادویات غیر میعار ہونے کے سبب بیمارشفایابی سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی میں شعبہ صحت نے اگرچہ موجودہ سائنسی دور میں کافی ترقی کی ہے تاہم ابھی بھی لوگوں کو طبی سہولیات کے فقدان کاسامنا ہے ۔ وادی میں کل 1646سے زائد سرکاری طبی مراکز کام کررہے ہیں جن میں ڈسٹرکٹ ہسپتال 10سب ڈسٹرکٹ ہسپتال 46،پرائمری ہیلتھ سنٹر 228، آلوپیتھک ڈسپنسریاں 125 ، ڈسٹرکٹ T بی سنٹر7میڈیکل ایڈ سنٹر 280،سب سنٹر 939قائم ہیں۔تاہم ان سرکاری طبی مراکز میں بہتر طبی سہولیات نہ ہونے کے سبب لوگ مایوسی کے شکار ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں اکثر مریض پرائیوٹ ہسپتالوں اور پرائیوٹ کلنکوں پر علاج و معالجہ کرانے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ سرکاری ہسپتالوں میں اگرچہ بہتر سے بہتر مشنری ہے اور بہترین معالجوں کی خدمات مئیسر رہتی ہے لیکن جوابدہی کے فقدان اور عملہ کی غفلت شعاری کے سبب مریضوں کو بہتر سہولیات بہم نہیں ہورہی ہے ۔ ادھر وادی کے دور درازعلاقوں میں قائم ہیلتھ سنٹروں اور ڈسپنسریوں میں عملے کی کمی اور غیر حاضری کا رجحان اب عام ہوگیا ہے اکثر ہیلتھ سنٹروں میں ڈاکٹروں کی کمی، ٹکنشنوں کی کمی اور ادویات کی عدم دستیابی پائی جارہی ہے ۔اس ضمن میں ماہرین معالجہ حضرات سے جب بات کی گئی تو انہوںنے نام نہ ظاہر کی بناء پر بتایا کہ یہ پیشہ ایک زمانے میں مسیحائی پیشہ تصور کیا جاتا تھا اور معالجوں کو بڑی عزت و اکرام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا کیوں کہ حکیم ، ڈاکٹر اپنے پیشے کو عبادت کی نظر سے دیکھتے تھے تاہم اس دور جدید میں جب انسان کو لالچ اور خود غرضی نے جکڑ لیا ہے ۔سی این آئی کے مطابق اس پیشے سے وابستہ افراد اب خداکے خوف کو دل سے نکال چکے ہیں اور اپنے کام کو عبادت کے بجائے دولت کمانے کا ذریعہ تصور کیا جاتا ہے اسلئے اکثر ڈاکٹر صاحبان غیر معیاری ادیات اس لئے تفویض کرتے ہیں کیوں کہ انہیں فارمسٹوں کی جانب سے بڑے بڑے تحائف پیش کئے جاتے ہیں جو کہ اپنے پیشے سے بے ایمانی کے مترادف ہے ۔

Comments are closed.