موسم سرما میں کشمیر میں کووڈ-19 کی صورتحال سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے / طبی ماہرین
اسپتالوں میں مریضوں کا داخلہ بڑھنے گا ، ایس او پیز اور گائیڈ لائیز پر عملدر آمد لازمی
سرینگر/07نومبر: موسم سرما میں وادی کشمیر میں کورنا وائرس کی صورتحال سنگین رخ اختیار کر سکتا ہے کی بات کرتے ہوئے طبی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وائرس سے بچنے کیلئے احتیابی تدابیر اور واضح کر دہ ایس او پیز پر عملدر آمد لازمی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق موسم سرما کی آمد آمد کے ساتھ ہی طبی ماہرین نے کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں کووڈ-19 پھیلانے والا وائرس وادی کشمیر میں زیادہ پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر میںتعینا ت ایک معروف معالج کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں سینے کی تکالیف ویسے ہی بڑھ جاتی ہیں اور کووڈ-19 کی موجودگی اس صورتحال کو سنگین بنا سکتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پچھلے دو ہفتے سے اسپتالوں میں کووڈ-19 مریضوں کے داخلے بڑھنے لگے ہیں، جو آنے والی صورتحال کا عندیہ دیتے ہیں۔ جموں کشمیر میں زیادہ ترکووڈ مریض اب گھروں میں ہی کورانٹائن کئے جاتے ہیں اور زیادہ بیمار ہونے کی صورت میں ہی اسپتالوں میں داخل کئے جاتے ہیں۔ کئی مریض تو آکسیجن سیچوریشن کم ہونے پرگھروں میں ہی آکسیجن سلنڈر لاکر اس کمی کو پورا کرتے ہیں، لیکن موسم سرما میں یہ شاید ممکن نہ ہوپائیگا کیونکہ بجلی کی سپلائی کم ہوجاتی ہے اور لوڈ شیڈنگ کے سبب ان لوگوں کو بھی اسپتال کا رْخ کرنا پڑسکتا ہے۔ایک اور طبی ماہر کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں اسپتالوں میں کووڈ کے علاوہ سینے کی تکالیف میں مبتلا دیگر مریضوں کا بھی رش لگا رہتا ہے، ایسے میں آکسیجن کی موجودہ سپلائی کافی نہیں ہوگی۔ موسم سرما میں سوائن فلو پھیلانے والا وائرس بھی کشمیر میں کافی ایکٹیو رہتا ہے اور پچھلے کچھ سالوں میں اس سے کئی افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔ سوائن فلو کی علامات کووڈ کی علامات جیسی ہی ہیں۔دوسری جانب کووڈ قواعد وضوابط پر عمل برائے نام ہے۔ سرینگر نگر کے بازاروں میں ماسک پہنیکوئی شخص ڈھونڈنے پہ ہی ملتا ہے۔ سوشل ڈسٹنسنگ سرکاری پوسٹروں پر چپک کے رہ گئی ہے۔ بچے، بزرگ خواتین سب کے سب، لوگوں سے لبا لب بازاروں میں بے خوف گھومتے نظر آرہے ہیں۔ ایسا نہیں کہ ان لوگوں کو کووڈ کے خطرات کی آگہی نہیں لال چوک میں کئی لوگوں سے دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ ماسک تو ان کے پاس ہے، لیکن جیبوں میں سجا رکھی ہے۔ کچھ ایک تو گردنوں پر لٹکا کے گھومتے نظر آئے۔ کووڈ کے ابتدائی دور میں لوگوں نے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کیا، لیکن بعد میں بے پرواہ ہوگئے۔ طبی ماہرین نے اس پر زور دیا ہے کہ لوگوں کو چاہئے کہ اس وبائی بیماری سے بچنے کیلئے تمام واضح کردہ ایس او پیز او ر گائیڈ لائنز پر من و عن عمل کیا جائے جبکہ ساتھ ہی سماجی دوری کے ساتھ ساتھ ماسک پہننا ضروری ہے ۔
Comments are closed.