عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ ’’دن میں خواب دیکھنے والوں‘‘کا گروپ /ترون چگ
جموں کشمیر میں کسی بھی صورت میں دفعہ 370یا 35-Aکو بحال نہیں کیا جائے گا
پی ڈی پی اور این سی کے ممبران پارلیمان کو اتنی ہی فکر ہے تو اپنے عہدئوں سے مستعفی کیوں نہیںہوتے /جتندر سنگھ
سرینگر/07نومبر: عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کو ’’دن میں خواب دیکھنے والوں‘‘کا گروپ قرار دیتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی جنرل سکریٹری ترون چگ نے واضح کر دیا کہ کسی بھی صورت میں دفعہ 370یا 35-Aکو بحال نہیں کیا جائے گا۔ ادھر پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کے ممبران پارلیمان کو ہدف تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ انہیں اتنی ہی فکر ہے تو وہ بطور احتجاج اپنے عہدوں سے مستعفی کیوں نہیںہوتے ۔ سی این آئی کے مطابق جموں میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی جنرل سکریٹری ترون چگ نے کہا کہ بی جے پی ان تمام حلقوں پر ضلعی ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) کے انتخابات لڑنے جا رہی ہے جس میں وہ بھی اپنی پارٹی علامت کے ساتھ ہیں۔عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اسے ایک خواب دیکھنے والے کے گروہ کے طور پر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب جھوٹ کے جھنڈے کے ذریعہ جموں و کشمیر کے لوگوں کا استحصال کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جموںکشمیر میں دفعہ 370اب بحال نہیںکیا جا سکتا ہے ۔ جنگجوئوں کی باز آبادی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا جس کسی بھی بندوق اٹھائی ہے ہم ان کے ساتھ بات نہیںکر یں گے اور بندوق اٹھانے والی کی ایک ہی جگہ ہے اور وہ قبر ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کی ترقی کے لئے ایک طویل منصوبہ تیار ہے اور حکومت اس پر کام کر رہی ہے۔نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں کے کچھ ریمارکس کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں چگ نے کہا کہ بی جے پی کشمیر میں کسی بھی جگہ اور وقت پر جموں و کشمیر کے معاملے پر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ سے بحث کرنے کو تیار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صرف دو امور پر بات کریں گے اور ان میں کشمیر میں عبداللہ کی غلط کاریوں اور جموں و کشمیر کی ترقی کے لئے بی جے پی کی کوششیں شامل ہیں۔اس موقعہ پر ممبر پارلیمنٹ اور پی ایم او کے دفتر میں وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اگر جموں کشمیر کی درد واقعی نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو ہے تو ان کے دونوں اراکین پارلیمنٹ دونوں ایوانوں کے اندر موجود تھے لیکن انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مناسب وقت پر جموں و کشمیر کا ریاست بحال کیا جائے۔جموں وکشمیر میں علاقائی جماعتوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ ان پارٹیوں کے رہنماؤں نے روزانہ اجرت دینے والوں کی تقرریوں کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر غلطیوں کا سہارا لیا جس کے لئے جموں و کشمیر میں وقتا فوقتا مختلف اسکیمیں چلائی گئیں اور نوجوانوں کو بے وقوف بنایا گیا۔ .
Comments are closed.