صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں بد عنوانی اور اقرباء پر وری سر چڑھ کر بو ل رہی ہے
مخصوص کمپنیوں کو فا ئدہ پہنچا نے کے لئے محضتین رو ز کے اندر لاکھوں فیس ما سک خریدکر خزانہ عامرہ کو لُوٹا گیا
سرینگر // کے پی ایس : صورہ میڈیکل انسٹی چیو ٹ میں جا ری بے ضابطگیو ں اور اقربا ءپر وری کے بیچ انسٹی چیو ٹ نے کورونا وائرس کی آڑ میں محض تین دن کے اندر چار لاکھ تیس ہزار ماسک مہنگے داموں خر ید کر دو مقامی میڈ یکل ایجنسیوں کو لاکھوں روپے کا فائدہ پہنچا یا ہے جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران انسٹی چیو ٹ کے حکام نے کمیشن کی بھا ری رقم اپنی جیبوں میں بھر لی ۔کشمیر پریس سروس کے مطا بق صورہ میڈیکل انسٹی چیو ٹ نے ایک ٹینڈر نو ٹس زیر نمبر SIMS-325-COVID-19-2020جا ری کر دی جس کے تحت رجسٹرڈ میڈیکل سپلا ئرس سے فیس ما سکس کی سپلائی طلب کی گئی ۔ٹینڈر نوٹس جا ری کر نے کے بعد انسٹی چیو ٹ نے NOVO Life Healthcareنا می ڈیلر کو ٹینڈر الاٹ کیا اور مذکو رہ ڈیلر سے 4لاکھ فیس ما سکس 10رو پے فی کس کے حساب سے لی گئیں جس کی قیمت 40لاکھ بن جا تی ہے کیونکہ ایک فیس ما سک کی با زار میں قیمت محض دو یا اڑھا ئی رو پے ہے ۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ انسٹی چیو ٹ نے یہ ماسک انتہائی مہنگے داموں خرید کر نہ صرف خزانہ ¿ عامرہ کو لاکھوں رو پے کا نقصان پہنچایا بلکہ اس دوران متعلقہ حکا م کو بھا ری کمیشن بھی فراہم کی گئی ۔حیرت کی با ت یہ ہے کہ M/s Novo life Healthcareسے چا ر لا کھ ما سک خریدنے کے محض تین رو ز بعد انسٹی چیو ٹ نے ادویا ت اور متعلقہ ساز و سامان کا کا روبا ر کر نے والی ایک اور کمپنی M/s Eminent Medical Agencyکو مذید تیس ہزار فیس ما سکوں کی خریداری کے لئے سپلا ئی آر ڈر فراہم کر دیا اور اس کمپنی سے بھی دس رو پے فی کس کے حساب سے یہ ما سک لئے گئے ۔سوال پو چھا جا سکتا ہے کہ اگر 25ما رچ 2020کو انسٹی چیو ٹ نے چار لاکھ فیس ماسک خر یدے تھے تو محض تین روز کے اندر اندر انسٹی چیو ٹ کو مذید تیس ہزار ما سک خر یدنے کی کیا ضرو رت پڑی اور فیس ما سکوں کی اتنی کیا خفت انسٹی چیو ٹ میں ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں خر یدی گئیں فیس ما سکس محض تین روز میں ہی ختم ہو گئیں اور انسٹی چیو ٹ کو مذید تیس ہزار فیس ما سک ہنگا می طور خرید نا پڑ ے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انسٹی چیو ٹ کی انتظامیہ کے کچھ اعلیٰ عہدیداروں کو ادویات اور دیگر متعلقہ ساز وسامان کا کا روبا ر کر نے والی کمپنیوں سے ہر ٹینڈر میں لاکھوں روپے کا کمیشن ملتا ہے اور یہاں کے حکا م کو مر یضوں اور ہسپتال میں کا م کر نے والے طبی ی انیم طبی عملے سے زیا دہ اپنے کمیشن کی فکر رہتی ہے اور کمیشن کے چکر میں خریدی گئی ادویات اور دیگر ساز وسامان کی قیمتوں کاکو ئی پا س و لحاظ نہیں رکھا جا تا ہے ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ صورہ میڈیکل انسٹی چیو ٹ میں کو رونا وائر سکی وبا ءکے دوران بے ضابطگیوں کا ایک وسیع سلسلہ شروع ہوا جس پر میڈ یا میں کئی با ر رپو رٹس بھی شائع ہوئیں تاہم انسٹی چیو ٹ کی انتظامیہ اس صورتحال کے حوالے سے خاموشی اختیا ر کئے ہوئے ہے ۔
Comments are closed.