کشمیر میں کوئی بھی بچہ ’’کبوشن‘‘بھوک مری کا شکار نہیںہوتا ; مہلک بیماریوں کے علاج کیلئے درکار رقومات کی عدم دستیابی موت کی سبب بن جاتے ہیں

سرینگر/20اکتوبر/: کشمیر میں ایک بچے کی موت بھوک سے نہیں ہوتی، وادی میں ہر بچہ کو دو وقت کا کھانہ مئیسر ہے تاہم غریب کنبوں کے بچوں کی موت اکثر صحیح وقت پر علاج نہ ملنے اور مہلک امراض کے علاج کیلئے درکار رقومات کی عدم دستیابی سے ہوتی ہے ۔ جبکہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں کپوشن کے نتیجے میں سالانہ ہزاروں بچوں کی موت ہوتی ہے ۔’’یونیسف نے رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں بھوک سے بچوں کی موت کی شہر فیصدی میں اضافہ ہوچکا ہے ‘‘کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کشمیر میں بھوک کی وجہ سے کسی بچے کی موت نہیں ہورہی ہے اگرچہ گذشتہ تیس برسوں کے نامساعد حالات میں وادی کشمیر اقتصادی لحاظ سے کافی کمزورہوچکی ہے اور بے روزگاری میں کافی اضافہ ہوچکا ہے لیکن اس کے باوجود بھی وادی کے دور دراز علاقوں میں بھی بچوں کو دو وقت کا کھانا نصیب ہوتا ہے ۔ وادی کشمیرمیں بچوں کی موت وقت پر علاج نہ ملنے اور ادویات کی کمی کے سبب ہوتی ہے ۔ غریب کنبوں اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے پچھڑے علاقوں میں رہنے والے بچوں کی موت بیماری سے متعلق صحیح جانکاری نہ ہونے اور وقت پر بیماری کا علاج نہ کرنے کے نتیجے میں ہوتی ہے جبکہ کسی مہلک بیماری میں مبتلاء غریب کنبوں کے بچے علاج کیلئے درکار رقومات کی عدم دستیابی کے سبب موت واقع ہوتی ہے تاہم جموں و کشمیر باالخصوص وادی کشمیر میں ’’کپوشن‘‘یعنی بھوک مری سے کسی بچے یا بڑے کی موت نہیں ہوتی۔ ’’یونیسف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں بھارت میں کپوشن سے بچوں کی موت کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے ۔ یونیسف نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت 103نمبر پر آچکا ہے جبکہ اس سے پہلے 98پر تھا لیکن بھارت اب آئے روز بھارت اقتصادی بہران کا شکار ہورہا ہے اور بے روزگاری بھی بڑھ رہی ہے کئی کمپنیاں بند ہوچکی ہے اور کئی بینک بھی دوسرے بینکوں میں ضم ہوچکے ہیں جس سے غریبی میں اور زیادہ اضافہ ہوچکا ہے ۔ یونیسف نے رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں سالانہ ایک لاکھ ٹن کے قریب راشن خراب ہوجاتی ہے اس کے باوجود بھی بھارت میں بکھمری بڑھ جاتی ہے ۔ بھوک سے مرنے والوں میں بھارت، نیپال، بنگلہ دیش ، پاکستان ، سری لنکا ، بھوٹان ، کے علاوہ امریکہ کے نارتھ ایسٹ کے علاقے بھی شامل ہیں ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گذشتہ دنوں بھارت کے راجستھان میں ایک پچھڑی بستی میں ایک بچی نے بھوک کی شدت سے تنگ آکر خود کشی کی کوشش کرتے ہوئے اپنے آپ پر تیل چھڑک کر آگ لگائی تھی جس کے نتیجے میں بچی کا ستر فیصدی حصہ جل گیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ راجستھان کے گوالیہ نامی گائوں میں ایک غیرب کنبہ کئی روز سے بھوکوں سو رہا تھا ۔ میاں بیوی کے علاوہ کنبے میں دو بچے بھی تھے جن میں ایک سات برس کی لڑکی اور چھ برس کا لڑکا بھی شامل تھا ۔ لڑکی جب سکول سے گھر واپس آئے تو بھوک سے نڈھال تھی گھر میں ایک باسی روٹی بچی ہوئی تھی جس کو لڑکی کے بھائی نے سکول آتے ہی پورا کھالیا تھا اور لڑکی کیلئے کچھ بھی نہیں چھوڑا ۔ لڑکی کی بھوک کی شدت بڑھتی گئی جس کے باعث لڑکی نے راست اقدام اُٹھاتے ہوئے اپنے آپ پر تیل چھڑک کر خود کو آگ لگائی اس دوران آس پڑوس کے لوگوںنے بچوں کو آگ کی لپٹوں سے تے بچایا تاہم اس کا ستر فیصدی جسم جھلس گیا تھا ۔ علاج کے بعد پوچھے جانے پر لڑکی نے کہا کہ اس سے بھوک برداشت نہیں ہوئی جس کی وجہ سے یہ اقدام اُٹھایا ۔ اس واقع کے بعد اگرچہ ضلع انتظامیہ نے غریب کنبہ کے گھر پر راشن بھیج دیا تاہم آدھی جھلس جانے والی لڑکی کے علاج کیلئے اب رقم نہیں ہے جس کے نتیجے میں اُس کو ہسپتال سے رخصت کیا گیا ہے ۔ ادھر رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر بھوک مری پر جلد قابو نہیں پایا گیا تو یہ ایک خطرناک صورت اختیار کرسکتا ہے ۔

Comments are closed.