سرینگر/20اکتوبر: جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ، موجودہ ممبر پارلیمنٹ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے کرکٹ سکینڈل کیس کے سلسلے میں طلبی پر جموں کشمیر کی غیر بھاجپا مین سٹریم جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل کااظہار کیاگیا ہے ۔ مختلف جماعتوں کی جانب سے اس عمل کو غیر قانونی قراردیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھاجپا اب سیاسی انتقا م گیری پر اُتر آئی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ کوانفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے طلب کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے پارٹی رہنمائوں نے اِسے سیاسی انتقام گیری قرار دیا ہے۔ایک بیان میںپارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران عبدالرحیم راتھر، محمد شفیع اوڑی، میاں الطاف احمد، مبارک گل، چودھری محمد رمضان، محمد اکبر لون، پیرزادہ غلام احمد شاہ،دیوندر سنگھ ر انا، شمیمہ فردوس، سکینہ ایتو، نذیر احمد خان گریزی، حسنین مسعودی ،قمر علی آخون،علی محمد ڈار، ڈاکٹر بشیر ویری،شمی اوبرائے،ایس ایس سلاتیہ، اجے سدھوترا، رتن لعل گپتا، آر ایس وزیر، سجاد احمد کچلو، برج موہن شرما، خالد نجیب سہروردی ، جاوید احمد رانا، ایس نمگیال ،حنیفہ جان ،مشتاق احمد بخاری اور بملا لوتھرانے انفورس ڈیپارٹمنٹ میں نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طلبی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے نئی دلی کی بوکھلاہٹ قرار دیا ہے۔ پارٹی لیڈران نے کہا کہ مرکز جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی کیلئے اْٹھ رہی آواز کو دبانے کیلئے سیاسی انتقام گیری سے کام لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5اگست 2019کے فیصلوں کیخلاف ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت میں سیاسی جماعتوں کا اتحاد ایک مضبوط آواز بن کر اْبھرا ہے اور اس اتحاد نے بھاجپا کی نیندیں حرام کرد ی ہیں۔ این سی لیڈران نے کہا کہ بھاجپا اس تحریک کو کمزور کرنے کیلئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو سیاسی انتقام گیری کے تحت نشانہ بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی دلی کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ ایسے حربوں سے ہمارے عزم و استقلال میں ذرا برابر بھی فرق نہیں پڑ ے گا اور نیشنل کانفرنس ہر حال میں جموںوکشمیر کے لوگوں کے احساسات اور جذبات کی ترجمان کرتی رہے گی اور تینوں خطوں کے عوام کے حقوق کی بحالی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ادھر نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے کہاہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کیخلاف سیاسی طور لڑنے میں ناکامی کے بعد بی جے پی نے اپنی ایجنسیوں کو کام پر لگا دیا ہے۔ادھرپی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے نام انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے سمن جاری کرنے کو سیاسی انتقام گیری سے تعبیر کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ایسی کارروائیوں سے ہمارے حقوق کے لئے اجتماعی جدوجہد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔موصوفہ نے اس ضمن میں اپنے ایک ٹویٹ میں کہا،’’ای ڈی کی طرف سے فاروق عبداللہ کے نام اچانک سمن جاری کرنا اس بات کا مظہر ہے کہ حکومت ہند جموں و کشمیر میں مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے خائف ہے۔ یہ سیاسی انتقام گیری ہے۔ اس سے ہمارے حقوق کے لئے لڑنے کے اجتماعی ارادوں پر کوئی آنچ نہیں آئے گی‘‘۔دریں اثنا پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا،’’افسوس کی بات ہے کہ ڈاکٹر فاروق کے نام ای ڈی نے سمن جاری کیا ہے۔ اس سے سیاسی انتقام گیری کی بو آتی ہے‘‘۔بتادیں کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے پیر کے روز یہاں جموں وکشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن میں سن 2012 میں سامنے آنے والے کروڑوں روپے مالیت کے اسکینڈل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں نیشنل کانفرنس صدر و وکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے پوچھ گچھ کی۔دریں اثناء عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر بیگم خالدہ شاہ نے اینفورسمنٹ ڈائریکٹو ریٹ کی طرف سے انہیں طلب کئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گپکار اعلامیہ لوگوں کا اتحاد ہے جس سے بھارتیہ جنتا پارٹی بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی ہے۔ خالدہ شاہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ جموں کشمیر کی سیاسی پارٹیوں پر زورزبردستی سے غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جنہوں نے دفعہ370اور35Aکی بحالی کی کوششوں کی شروعات کی ہیں۔انہوں نے کہا بی جے پی اپنے اداروں اور ایجنسیوں کی مدد سے دبائو بنا کر غلبہ پیداکر ناچاہتی ہے جس کو قبول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.