عسکریت کا راستہ ترک کرنے والے نوجوانوں کی بازآبادی کیلئے پالیسی زیر غور / بی ایس راجو

سیکورٹی فورسز زندگیوں کا خطرہ میں ڈال کر مقامی جنگجوئوں کو خود سپردگی کرنے پر آمادہ کرتی ہے

مسلح جھڑپوں کے دوران نوجوانوں کو مارنا فوج فورسز کو کوئی خوشی نہیں دیتا

سرینگر/18اکتوبر: مرکزی سرکار جموں کشمیر میں ان تمام نوجوانوں جو عسکریت کا راستہ ترک کرکے مین اسٹریم میں آنا چاہتے ہیں کیلئے باز آباد کار ی پالیسی پر غور کر رہی ہے کی بات کرتے ہوئے فوج کے 15کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹنٹ جنرل بی ایس راجو نے کہا ہے کہ مسلح جھڑپوں کے دوران نوجوانوں کو مارنا فوج فورسز خوشی نہیں دیتا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق چنار کارپس ہیڈ کواٹر میں ایک رسمی گفتگو کے دوران 15کور کے جے او سی لیفٹنٹ جنرل بی ایس راجو نے کہا کہ جموںکشمیر میں عسکریت کا راستہ اختیار کرنے والے مقامی نوجوانوں میں سے جو بھی اس راستہ کو ترک کرکے گھر واپسی اختیار کرنا چاہتا ہے ان کی باز آبادی کاری کیلئے مرکزی سرکار سنجیدہ ہے اور اس پر غور کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فوج ان نوجوانوں جنہوں نے بند وق اٹھائی ہے کو خود سپردگی کرنے پر مجبور کرتی ہے تاکہ ان کی جان بچانے کے ساتھ ساتھ ان کی باز آباد کاری بھی کی جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلح جھڑپوں کے دوران ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ نوجوانوں کی خود سپردگی کرائی جائے ۔ اور کہا کہ ہمیں اس بات سے کوئی خوشی نہیں ملتی کہ جھڑپ کے دوران نوجوان مارا جائے ۔ جنرل راجو نے کہا کہ جھڑپوں کے دوران ہمارے جوان اپنی زندگیوںکا خطرہ میں ڈال کر محاصرے میں پھنسے عسکریت پسندوں کو خود سپردگی کا موقعہ دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کہیں جھڑپ شروع ہوجاتی ہے تو ہم وہاں جنگجوئوں خاص طور پر جو مقامی ہوان کو خود سپردگی کی پیشکش کرتے ہیں کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ کسی نے بندوق اٹھا کر تصویر لی تو وہ مارنے کیلئے ہی نکلا ہو۔ انہوں نے کہا کہ امسال تین نوجوان جنہوں نے بندوق اٹھائی تھی نے خود سپردگی کی جبکہ 50سے زائد کو گرفتار کر لیا گیا ۔

Comments are closed.