مغل روڑ کو ہمیشہ سے ہی سیاسی سازش کا شکار بنایا گیا؛ شاہراہ جموں کشمیر کی ترقی کیلئے اہم، سڑک کو 12ماہ کھلا رکھنے کا مطالبہ
سرینگر/17اکتوبر: وادی کشمیر کے جنوبی حصے اور خطہ پیر پنچال کو ملانے والی شاہراہ مغل روڑ کو سال کے 12مہینے کھلنے رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے لوگوں نے اس روڑ کو سیاسی سازش کا شکار بنایا جارہا ہے جبکہ یہ شاہراہ جموں کشمیر کی ترقی میں ایک اہم رول اداکرسکتا ہے ۔اس ضمن میں مغل روڑ ایکشنکمیٹٰ نے لفٹنٹ گورنر کو ایک یاداشت بھی پیش کی ہے جس میں روڑ کو مسلسل کھلا رکھنے کامطالبہ کیا گیا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق مغل روڑ ایکشن کمیٹی راجوری نے لیفٹیننٹ گورنر جموں کشمیر کی طرف ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری محمد نظیر شیخ کو ایک یاداشت سونپی جس میں مغل روڈ کے متعلق مختلف مسائل ہیں اور ساتھ میں مغل روڈ کو 12 ماہ دو طرفہ عوام کے لئے بحال رکھنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اس موقع پر مغل روڈ ایکشن کمیٹی نے پریس کانفرنس کر کے ذرائع ابلاغ کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر کمیٹی کے چیرمین میر شاہد سلیم، ایگزیکٹو ممبران شبیر راتھر، عاقب وانی، راہیس چودھری ظہور احمد، تنویر احمد شیخ اویس اور دیگر بھی موجود تھے۔ وہیں کمیٹی چیرمن میر شاہد سلیم نے کہا کہ مغل روڈ ہر سال اپریل میں ٹریفک کے لئے بحال کی جاتی ہے اور پہلی برف باری کے بعد روڈ کو بند کر دیا جاتا ہے لیکن اس سال کورونا وائرس کے چلتے مغل روڈ کو بند رکھا گیا جبکہ لاک ڈاؤن ختم ہوتے ہی حکومت نے آہستہ آہستہ تمام راستے بحال کر دئے لیکن مغل روڈ آج تک مسلسل بند ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مغل روڈ کی تعمیر سے قبل ہی اس کے خلاف سازشیں شروع ہوگئی تھی اور آج تک مغل روڈ سازشوں کی شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغل روڈ صرف ایک راستہ نہیں ہے بلکہ ایک احساس ہے جس سے خطہ پیر پنچال کی عوام اور کشمیر کو جوڑ کر رکھا ہے۔ انہوں نے بے روزگار نوجوانوں نے بینکوں سے لون پر مسافر گاڑیاں لی جو کہ مغل روڈ پر چلتی ہیں لیکن گزشتہ کئی مہینوں سے روڈ بند ہونے سے گاڑیوں کے قرضے بڑھ گے ہیں اور بینکوں نے بھی پریشان کرنا شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینکڑوں بیمار ایسے ہیں جو سرینگر سے علاج کروا رہے ہیں اور جموں کے راستے ان کا سرینگر جانا بھی کافی مشکل رہتا ہے۔ انہوں نے مغل روڈ ایکشن کمیٹی راجوری کی طرف سے حکومت سے اپیل کی ہے کہ مغل روڈ کو عوام کے لئے بحال کیا جائے اور راستے میں بے فضول ناکے لگا کر لوگوں کو ہراساں کرنا بھی بند کیا جائے۔
Comments are closed.