کوروناوائرس کی وجہ سے ذہنی امراض میں مبتلاء مریضوں کو دشواریوں کا سامنا؛ ہسپتالوں میں علاج و عمالجہ دستیاب نہ ہونے کے نتیجے میں زہنی امراض بڑھنے کا اندیشہ

سرینگر/07اکتوبر: کووڈ 19کے دور میں ذہنی امراض میں مبتلاء مریضوں کوشدید پریشانیوں کا سامناکرنا پڑرہا ہے جبکہ ذہنی امراض ہسپتال سرینگر میں ایسے مریضوں کا علاج و معالجہ نہ ہونے کے برابر ہورہا ہے ۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ ذہنی امراض کے ہسپتال میں داخل مریضوں کو کووڈ سے بچائو کیلئے کوئی بھی اشیاء فراہم نہیں کی جارہی ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق عالمی وبائی بیماری کوروناوائرس کی وجہ سے جہاں پر ہر شعبہ اور ہر فرد متاثر ہوا ہے وہیں پر زہنی امراض میں مبتلاء مریض بھی کافی پریشانیوں کے شکار ہوچکے ہیں ۔ کووڈ 19کی وجہ سے وادی میں تمام ہسپتالوں کو بند کردیا گیا ہے جبکہ کسی بھی ہسپتال میں ذہنی امراض میں مبتلاء مریضوں کیلئے کوئی ڈاکٹر خدمات کیلئے تیار نہیں ہے ۔ مختلف نوعیت کے ذہنی امراض میں مبتلاء مریضوں نے بتایا ہے کہ وہ مختلف ہسپتالوں میں جاکر متعلقہ ڈاکٹروں کے پاس جاکر علاج و معالجہ کراتے تھے لیکن جب سے کووڈ کی مہاماری پھیلی ہے ہسپتالوں میں ذہنی امراض کا شعبہ پوری طرح سے ٹھپ ہے خاص کو صدر ہسپتال سرینگر، رعناواری ہسپتال، ضلع ہسپتال کپوارہ، ضلع ہسپتال بارہمولہ اور ضلع ہسپتال اننت ناگ میں ذہنی مریضوں کے علاج و معالجہ کیلئے کوئی بھی سہولیت دستیاب نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں واحد ذہمی امراض کا ہسپتال جو کہ کاٹھی دروازہ رعناواری میں واقع ہے میں بھی علاج و معالجہ کی سہولیات دستیاب نہیں ہے کیوں کہ اکثر طی و نیم طبی عملہ اپنے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دیتا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ ہسپتال میں جو ذہنی امراض میں مبتلاء مریض داخل ہے ان کو بھی کووڈ سے بچنے کیلئے کوئی چیز فراہم نہیں کی جاتی ہے جس کے باعث ان کی جانوں کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ وادی میں کوروناوائرس جس تیزی سے پھیل رہا ہے اس سے یہاں پر ذہنی مریضوں میں اور زیادہ اضافہ ہورہا ہے تاہم ان کے علاج و معالجہ کیلئے کوئی بھی اقدام نہیں اُٹھایا جارہا ہے ۔زرائع نے بتایا کہ اگر یہی حال رہا اور ایسے مریضوں کو بروقت علاج و عمالجہ فراہم نہیں کیا گیا تو ان کے امراض میں بڑھ سکتے ہیں جو آگے چل کر ان کیلئے کافی پریشانی کھڑا کرسکتے ہیں۔

Comments are closed.