گاندربل میں جاں بحق جنگجو سابق حزب کمانڈر ریاض نائیکو کا قریبی ساتھی تھا / ڈی جی پی دلباغ سنگھ

جنگجوئوں کی نقل و حمل پر نظر گزر رکھنے کیلئے ڈروان اور دیگر ٹیکنکل سہولیات بروئے کار لائی جا رہی ہے

ایمانداری سے کام کرنے کیلئے 39صحافیوں کو پاکستان کے اشارے پر دھمکی ملی

سرینگر/07اکتوبر/// وسطی ضلع گاندربل میں جاں بحق جنگجو مہلوک حزب کمانڈر ریاض نائیکو کا قریبی ساتھی تھا کا دعویٰ کرتے ہوئے جموں کشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا کہ شاہراہ پر حملوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ ایمانداری سے کام کرنے کیلئے 39صحافیوں کو ٹی آر ایف کی جانب سے دھمکی ملی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق ننرگاندر بل میں بی جے پی لیڈر پر حملے میں ہلاک ہو ئے پولیس اہلکار الطاف حسین کی میت پر گلباری کرنے کی تقریب کے حاشیئے پر نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے جموں کشمیر پولیس سربراہ دلبا غ سنگھ نے کہا ’’گذشتہ شام ننر گاندر بل میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر غلام قادر پر جنگجوئوں کے حملے میں غلام قادر کا ایک محافظ الطاف حسین مارا گیا۔اْس نے تاہم ایک حملہ آور جنگجو کو مار گرایا‘‘۔انہوں نے کہا کہ جوابی کارورائی میں ہلاک شدہ جنگجو حزب المجاہدین کے سابق آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکو کا قریبی ساتھی رہ چکا تھا۔انہوں نے مذکورہ جنگجو کی شناخت شبیر احمد ساکن اونتی پورہ کے طور کرتے ہوئے کہا کہ وہ نائیکو کیلئے بالائے زمین کارکن کی حیثیت سے سرگرم تھا اور اس نے کچھ ماہ قبل ہی باضابطہ طور جنگجوئوں کی صف میں شمولیت اختیار کی تھی اور حزب سے وابستہ تھا۔پولیس سربراہ نے کہا’’شبیر کو بھاجپا لیڈر غلام قادر کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی‘‘۔اس سوال کے جواب میں کہا گاندربل کو عسکریت سے پاک ضلع قرار دینے کے بعد جنگجو وہاں کیسے پہنچنے پر جموں کشمیر پولیس سربراہ نے کہا کہ جنگجوئوں پاکستان کے اشاروں پر کام کر تے ہیں اور وہ آزار ہوتے ہیں جہاں چاہئے جا سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایف پاکستان کی آئی ایس آئی کی شاخ ہے اور پاکستان کے اشاروں پر ہی چلتی ہے ۔حالیہ دنوں عسکری تنظیم ٹی آر ایف کی جانب سے صحافیوں کو دھمکانے کے معاملے پر جموں کشمیر پولیس سربراہ نے کہا کہ ان صحافیوں کو دھمکایا گیا ہے جو ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جنگجو پاکستان کے کہنے پر ان لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں جو جموں کشمیر میں امن کی بحالی کیلئے کام کرتے ہیں ۔ پانپور میں شاہراہ پر سی آڑ پی ایف پر حملے کے ایک سوال کے واجب میں انہوں نے کہا کہ پولیس کو کچھ اہم ثبوت حاصل ہوئے ہیں جن پر کام جاری ہے اور جلد ہی جنگجوئوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ۔

Comments are closed.