سرینگر/06اکتوبر/سی این آئی// نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے بیک ٹو ولیج پروگرام کو محض اَشک شوئی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فالو اَپ میں فقدان، معاشی صلاحیتوں کو ڈھوند نکلانے اور دیہات کی ضروریات کا صحیح جائزہ لینے میں ناکامی سے یہ وسیع پروگرام ایک فضول مشق بن کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ بڑے زور شور سے بیک ٹو ولیج پروگرام کا ڈھونڈورا پیٹ رہی ہے لیکن حقیقت میں یہ مشق خزانہ عامرہ پر ایک بہت بڑا بوجھ بن کر رہ گئی ہے، جس کی سرگرمیاں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اور انکم سرٹیفکیٹوں کی اجرائی تک محدود ہوگئی ہیں۔سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار انہوں نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر پر دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے وفود سے تبادلہ خیالات کرتے ہوئے کیا۔ علی محمد ساگر نے کہا کہ بیک ٹو ولیج کا ڈھنڈورا پیٹنے کا مقصد جموں وکشمیر کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ بڑے زو ر شور سے بیک ٹو ولیج پروگرام کی تشہیر کررہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس پروگرام کے پہلے دو مراحل سرے سے ہی ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ ان مرحلوں کے دوران منظور کئے گئے کاموں کیلئے نہ تو ابھی تک رقومات واگذار کئے گئے اور نہ ہی مجوزہ پروجیکٹوںکا فالو اَپ کیا گیا۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ عوامی حکومت کا کوئی بھی متبادلہ نہیں ہوسکتا لیکن بیک ٹو ولیج سے یہاں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جورہی ہے حکومت عام لوگوں کیلئے زمینی سطح پر دستیاب جبکہ حقائق اس کے عین برعکس ہیں۔ عام لوگوں کو عوامی حکومت کی عدم موجودگی اور انتظامی بے حسی کا زبردست خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور حکومت کے درمیان خلیج کو پاٹنے کے بجائے اسے وسیع کیا جارہا ہے۔ لوگوں کو سکریٹریٹ میں اپنی مسائل و مشکلات کا ازالہ کرنے سے پہلے آن لائن اجازت طلب کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ یہاں بیشتر لوگ ایسے ہیں جنہیں انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں اور بہت سارے ایسے بھی ہیں جو اس معاملے بالکل ناخواندہ ہیں۔ ایسے لوگ کیا کریں گے؟ ان کے معاملات کون حل کرے گا؟انہوں نے کہا کہ پہلے دو مراحل کے حوصلہ افزاء نتائج برآمد نہ ہونے کی وجہ سے بیک ٹو ولیج پروگرام کا تیسرا مرحلہ عام لوگوں کو اپنے اور راغب کرنے میں ناکام رہا ہے کیونکہ پہلے مراحل کے دوران جو وعدے کئے گئے اور جو فیصلے لئے گئے نہ تو اُن پر کوئی پیش رفت ہوئی اور نہ ہی مجوزہ پروجیکٹوں کیلئے رقومات واگذار کئے گئے۔ساگر نے کہا کہ حکمران کشمیر کی دیہی معیشت کو ترقی دینے میں بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے جو موسم کی خرابی اور مسلسل غیر یقینیت و کووڈ 19 کے دوہرے لاک ڈائون سے زبردست تنزلی سے دوچار ہے۔ ساگر نے کہا کہ بیک ٹو ولیج کے ناکام سرکاری تماشا سے نہ تو پنچایتوں کو حوصلہ ملایا اور نہ ہی دیہی علاقوں میں قیام پذیر لوگوں کے مسائل و مشکلات حل ہوئے ہیں۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.